بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

دھوبی کے کپڑے دھونے کا حکم


سوال

ہم اپنے ادارے میں کپڑے دھونے کا نظم بنانا چاہتے ہیں، لیکن کچھ دوستوں کو اعتراض ہے کہ نہ بنایا جائے، کیوں کہ  دھوبی کے کپڑے دھونے سے وہ پاک نہیں ہوتے ، بلکہ ناپاک کے ساتھ مل کر پاک کپڑے بھی ناپاک ہو جاتے ہیں، آپ اس بارے میں ہمیں شرعی راہ نمائی فرما دیں کہ اگر ہم دھوبی رکھیں تو اس کے کپڑے  دھونے کا حکم کیا ہے۔؟وہ پاک ہوں گے یا ناپاک؟

جواب

دھوبی سے کپڑے دھلوانا صحیح ہے، خواہ پاک کپڑے دھلوائے جائیں یا ناپاک، عموماً دھوبی پانی کی اتنی مقدار استعمال کرتے ہیں جس سے ناپاک کپڑے پاک ہوجاتے ہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ ناپاک کپڑے پاک کرکے دھوبی کو دھلنے کے لیے دیے جائیں جن کے کپڑے ہوں گے ان کو بھی بتلادیا جائے کہ عام پانی سے کپڑے پاک کرکے دیا کریں اور دھوبی کو بھی چاہیے کہ وہ دھلائی کے دوران کم از کم آخری مرتبہ بالکل صاف  اور پاک پانی سے کپڑے نکالے ؛ تاکہ کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفاً وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد، به يفتى. (وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثاً) أو سبعاً (فيما ينعصر) مبالغاً بحيث لايقطر ... وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقاً بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس، هو المختار.... أقول: لكن قد علمت أن المعتبر في تطهير النجاسة المرئية زوال عينها ولو بغسلة واحدة ولو في إجانة كما مر، فلا يشترط فيها تثليث غسل ولا عصر، وأن المعتبر غلبة الظن في تطهير غير المرئية بلا عدد على المفتى به، أو مع شرط التثليث على ما مر، ولا شك أن الغسل بالماء الجاري وما في حكمه من الغدير أو الصب الكثير الذي يذهب بالنجاسة أصلاً ويخلفه غيره مراراً بالجريان أقوى من الغسل في الإجانة التي على خلاف القياس ؛ لأن النجاسة فيها تلاقي الماء وتسري معه في جميع أجزاء الثوب فيبعد كل البعد التسوية بينهما في اشتراط التثليث، وليس اشتراطه حكماً تعبدياً حتى يلتزم وإن لم يعقل معناه، ولهذا قال الإمام الحلواني على قياس قول أبي يوسف في إزار الحمام: إنه لو كانت النجاسة دماً أو بولاً وصب عليه الماء كفاه، وقول الفتح: إن ذلك لضرورة ستر العورة كما مر، رده في البحر بما في السراج، وأقره في النهر وغيره. (قوله: في غدير) أي: ماء كثير له حكم الجاري. (قوله: أو صب عليه ماء كثير) أي: بحيث يخرج الماء ويخلفه غيره ثلاثاً ؛ لأن الجريان بمنزلة التكرار والعصر، هو الصحيح، سراج. (قوله: بلا شرط عصر) أي: فيما ينعصر، وقوله: " وتجفيف " أي: في غيره، وهذا بيان للإطلاق".

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ،كتاب الطهارة، باب الأنجاس،1/ 331، ط: سعيد)

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102363

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں