بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈھائی لاکھ رقم پر قربانی کا حکم


سوال

1: میں نے نوکری کرکے پیسے کماۓ ہیں وہ اپنی بیوی کو دئے ہیں،  والدہ بہن بھائیوں سے چھپ کر اور بیوی کو کہا کہ یہ آپ کے ہوگئے،  تقریبا ڈھائی لاکھ روپے ہے، تو بیوی پر قربانی واجب ہے یا نہیں، اگر واجب ہے تو اب کیسے کریں کیوں کہ سب کو پتہ چل جاۓ گا یا یہ طریقہ اختیار کرے کہ وہ پیسے وقف قربانی میں دے دیں شمالی علاقہ جات میں، 

2:باقی بھائی اور والدہ اور میں نے ملکر ایک حصہ لیاہے،  اب جو چھپے پیسہ ہیں ان کا کیا ہوگا؟

جواب

1: صورتِ مسئولہ میں جب ڈھائی لاکھ بیوی کو دیکر اس کو مالک بنادیا، تو مذکورہ رقم کی وجہ سے بیوی پر قربانی لازم ہے،  اگر کسی جگہ حصہ ڈال دیا تو قربانی کا وجوب ادا ہوجائے گا۔

باقی سائل کا کہنا کہ میں نے اپنے بہن بھائیوں سے چھپ کر بیوی کو نوکری کی تنخواہ دی ہے، یہ جملہ واضح نہیں ہے، اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ سائل کی فیملی مشترک ہے،اور پہلے سےتمام  بھائیوں میں ایساکوئی معاہدہ ہواہےکہ تمام بھائی اپنی پوری آمدنی مشترکہ شمارکرتےہوئے کسی بڑے کے پاس جمع کریں گے اورپھراسی سے مشترکہ اخراجات وغیرہ چلائیں گے، توسائل کے لئےحسب ِ معاہدہ عمل کرنا ضروری ہےیعنی رقم بیوی کو دینے کے بجائے اسی بڑے کو دینا ضروری ہے ، لیکن اگرایسی کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی اور ویسے کسی اور وجہ سے سائل اپنے بہن بھائیوں سے مذکورہ مسئلہ خفیہ رکھنا چاہتا ہےتو پھر مذکورہ رقم بیوی کو دینا درست ہے، اور اس پر قربانی بھی واجب ہوگی۔

2: ایک حصہ کی قربانی ایک نام سے ہی ہوسکتی ہے، ایک حصے میں ایک سے زائد نام شامل نہیں ہوسکتا ، لہذااگر تینوں یا تینوں میں سے کوئی ایک صاحب نصاب ہو تو اس کی طرف سے قربانی واجب ہے اور اگر کوئی بھی قربانی کا نصاب نہیں رکھتاہو تو سب ملک کر قربانی کی رقم کسی ایک کو مالک بنائے پھر وہ اپنی طرف سے قربانی کرے یا  چاہیں تو اپنے مرحومین کی طرف سے قربانی کریں۔

فتاویٰ عالمگیری  میں ہے:

"والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها، فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره، وإن كان له عقار ومستغلات ملك اختلف المشايخ المتأخرون - رحمهم الله تعالى - فالزعفراني والفقيه علي الرازي اعتبرا قيمتها، وأبو علي الدقاق وغيره اعتبروا الدخل، واختلفوا فيما بينهم قال أبو علي الدقاق إن كان يدخل له من ذلك قوت سنة فعليه الأضحية، ومنهم من قال: قوت شهر، ومتى فضل من ذلك قدر مائتي درهم فصاعدا فعليه الأضحية، وإن كان العقار وقفا عليه ينظر إن كان قد وجب له في أيام الأضحى قدر مائتي درهم فصاعدا فعليه الأضحية وإلا فلا، كذا في الظهيرية. ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب".

(كتاب الأضحية ، الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، ج:5، ص:292، ط:مکتبہ رشیدیہ)

            تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

 "لأن شركة المفاوضة لها شروط منها العقد ‌بلفظ ‌المفاوضة فإن لم يذكر لفظها فلا بد من أن يذكر تمام معناها بأن يقول أحدهما للآخر وهما حران بالغان مسلمان أو ذميان شاركتك في جميع ما أملك من نقد وقدر ."

( كتاب الشركة ، شرکة العنان، ج:1، ص:93، ط:دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100538

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں