بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

دیہاتی شخص شہر آئے تو جمعہ لازم ہوگا


سوال

 ایک دیہاتی شخص جو شہر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا ہے جس پر جمعہ فرض نہیں، وہ کسی ضرورت کے تحت شہر میں آتا ہے جمعہ کے دن تو کیا اس پر جمعہ کی نماز پڑھنا ضروری ہے یا اذان اول کے بعد ضروری ہوجاتاہے یا اس پر جمعہ کی نماز فرض نہیں؟

جواب

دیہاتی شخص  جب شہر میں آیا اور اس کی نیت یہ ہے کہ جمعہ کے وقت تک شہر میں رہے گا تو اس پر جمعہ واجب ہے، اس کا حکم شہری شخص کی طرح ہو جائے گا۔اور اگر یہ نیت ہو کہ جمعہ کی نماز سے پہلے ہی نکل جائے گا تو اس پر جمعہ واجب نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 145):

القروي إذا دخل المصر ونوى أن يمكث يوم الجمعة لزمته الجمعة؛ لأنه صار كواحد من أهل المصر في حق هذا اليوم وإن نوى أن يخرج في يومه ذلك قبل دخول الوقت أو بعد الدخول لا جمعة عليه، ولو صلى مع ذلك كان مأجورًا، كذا في فتاوى قاضي خان والتجنيس والمحيط.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201201287

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں