بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

دیہاتوں میں وقت داخل ہونے سے پہلے عشاء کی نماز پڑھنا


سوال

اکثر دیہات کے علاقوں میں لوگ رمضان المبارک کے مہینے میں عشاء کی اذان کلینڈر کے ٹائم سے پہلے دیتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اذان وقت سے پہلے دے دی تو کہتے ہیں کہ مغرب کے بعد سے سوا گھنٹے گزرنے پر عشاءکا وقت داخل ہو چکا ہوتا ہے تو کیا لوگوں کا یہ کہنا درست ہے یا نہیں؟ نیز کلینڈر میں مقررہ ٹائم سے پہلے اذان دینا کیسا ہے اور کلینڈر کا ٹائم معتبر ہے یا نہیں؟

 نوٹ: یہ مسئلہ اکثر رمضان المبارک میں اور خاص کر عشاء کی اذان میں پیش آتا ہے۔

جواب

مختلف اداروں کی جانب سے نمازوں کے اوقات کی تعیین کے لیے جو نقشے، کلینڈرتیار کیے گئے ہیں اگر وہ معتمد ہوں تو ان کے مطابق اگر کسی نماز کا وقت داخل نہیں ہوا تو اس صورت میں  نماز کے وقت سے پہلےاذان کہنا درست نہیں، وقت آنے کے بعداذان کا اعادہ ضروری ہے  ۔اگر اذان وقت کے داخل ہونے سے پہلے دے دی گئی اور نماز وقت کے داخل ہونے کے بعد پڑھی ہو تو اس صورت میں نماز تو ہو جائے گی، البتہ اذان نماز کے وقت سے پہلے کہنا درست نہیں، وقت آنے کے بعد اعادہ ضروری ہے ، اذان سنتِ مؤکدہ اور دین کا شعار ہے ، اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ وقت سے پہلے اذان دینے کی صورت میں  شعارِ دین کا ترک لازم آئے گا،لہذا وقت  داخل ہونے سے پہلے اذان دینادرست نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) سببه (بقاء دخول الوقت وهو سنة) للرجال في مكان عال (مؤكدة) هي كالواجب في لحوق الإثم (للفرائض) الخمس (في وقتها ولو قضاء) لأنه سنة للصلاة حتى يبرد به لا للوقت (لا) يسن (لغيرها) كعيد (فيعاد أذان وقع) بعضه (قبله) كالإقامة خلافا للثاني في الفجر....

(قوله: كالإقامة) أي في أنها تعاد إذا وقعت قبل الوقت، أما بعده فلا تعاد ما لم يبطل الفصل أو يوجد قاطع كأكل على ما سيذكره في الفروع.

(قوله: خلافا للثاني) هذا راجع إلى الأذان فقط، فإن أبا يوسف يجوز الأذان قبل الفجر بعد نصف الليل ح."

(كتاب الصلاة،باب الأذان،1/ 384،ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144305100554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں