بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1441ھ- 12 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دین کے دشمن کی ہلاکت پرمٹھائی تقسیم کرنے اورکھانے کاحکم


سوال

محترم جناب مفتیان کرام اگرکوئی اللہ اوراس کے دین کا باغی اور کٹر دشمن ہلاک ہوجائے تو اس سے نجات کی خوشی میں مٹھائی کھاناجائزہے جب کہ ایسا شخص امت کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتاہو؟ قرآن وسنت اورسیرتِ صحابہ کی روشنی میں واضح فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب

واقعتاً اگرکوئی اللہ اوردین کاباغی(کافر) ہو اوراس کاوجود امت مسلمہ کے لیے خطرہ ہو توایسے شخص کی ہلاکت کی صورت میں خوشی کااظہارثابت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف یہودی،ابورافع یہودی اورعصماء یہودیہ کے قتل پرمسرت وخوشی کااظہارفرمایا۔ تاہم خوشی کے اظہار کے لیے ضروری نہیں کہ مٹھائی ہی تقسیم کی جائے ۔۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143503200013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے