بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ڈیبٹ/ کریڈٹ کارڈ پر منافع حاصل کرنے کا حکم


سوال

ریسٹورنٹ اور آن لائن شاپنگ وغیرہ میں جو بینک کارڈ (کریڈٹ /ڈیبٹ) پہ ڈسکاؤنٹ (کوئی بھی آفر یا ڈسکاؤنٹ) آتے ہیں، کیا وہ استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب

1- ڈیبٹ کارڈ (Debit Card)بنوانا اور اس کا استعمال کرنا بذاتِ خودجائز ہے، اس کارڈ کے ذریعہ آدمی اتنے ہی پیسوں کی خریداری کرسکتا ہے جتنی رقم اس کے اکاؤنٹ میں موجود ہے، اس کے حاصل کرنے کے لیے سودی معاہدہ نہیں کرنا پڑتا، اورسود لینے دینے کی نوبت نہیں آتی، البتہ ڈیبٹ کارڈکے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں اگر کچھ پیسوں کی رعایت (Discount) ملتی ہے  تو معلوم کرنا چاہیے کہ وہ رعایت بینک کی طرف سے مل رہی  ہے یا جہاں سے خریداری کی ہے ان کی طرف  سے؟ اگر یہ رعایت بینک کی طرف سے ملتی ہوتو اس صورت میں رعایت حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ یہ رعایت بینک کی طرف سے کارڈ ہولڈر کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہی ہے جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے وہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔ البتہ اگر یہ رعایت  اس ادارے کی جانب سے ہو جہاں سے خریداری کی جارہی ہے تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ  ایک تیسری صورت ہے کہ نہ تو بینک ڈسکاؤنٹ دیتا ہے نہ متعلقہ ادارہ (شاپنگ مال، یا ریسٹورنٹ وغیرہ) بلکہ جو ادارہ ڈیبٹ کارڈ بناتا اس کی طرف سے ڈسکاؤنٹ ملتاہے، اگر ایسی صورت ہو اور اس ادارے کے کل معاملات یا اکثر معاملات حلال کام اور حلال آمدن پر مشتمل ہوں تو بھی اس ڈسکاؤنٹ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔

اوراگر یہ بات پتا نہ چل سکتی ہو کہ یہ رعایت کارڈ ہولڈر کو بینک یا متعلقہ ادارے کی طرف سے مل رہی ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ ڈیبٹ کارڈ سے مذکورہ سہولت حاصل نہ کی جائے۔

2- کریڈٹ کارڈ (Credit  Card) بنوانا، اس کا استعمال اوراس کے ذریعہ خرید و فروخت شرعاً درست نہیں ہے، اس لیے کہ کسی  معاملے کے حلال وحرام ہونے  کی بنیاد درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا۔ شریعت میں  جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی شرعًا حرام ہے۔ اس بنیاد پر بالفرض اگر کریڈٹ کارڈ لینے والا شخص لی گئی رقم مقررہ مدت میں واپس بھی کردے تو معاہدہ سودی ہونے کی وجہ سے اصولی طور پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال نا جائز ہے  اور اگر مقررہ مدت کے بعد سود کے ساتھ رقم واپس کرتا ہے تو اس کے ناجائز ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے، اس لیے ادائیگی کی صورت کوئی بھی ہو اس سے قطع نظر نفسِ معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ بنوانا ہی ناجائز ہے۔  باقی کریڈٹ کارڈ سے جو جائز سہولتیں متعلق ہیں وہ ڈیبٹ کارڈ سے بھی حاصل ہوجاتی ہیں، اس لیے کریڈٹ کارڈ کے استعمال کو ضرورت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

وفيمصنف ابن أبي شيبة(4 / 327)

20690 -حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص، عن أشعث، عن الحكم، عن إبراهيم، قال: كل قرض جر منفعة، فهو ربا.

فتاویٰ شامیمیں ہے:

 (قوله : كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً كما علم مما نقله عن البحر.

( مطلب كل قرض جر نفعاً حرام ٥/ ١٦٦ ط: سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

ولايجوز قرض جر نفعاً، بأن أقرضه دراهم مكسرةً بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاماً في مكان بشرط رده في مكان آخر ... و في الخلاصة: القرض بالشرط حرام.

( فصل في بيان التصرف في المبيع و الثمن ٦/ ١٣٣، ط:دار الكتب الاسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201201026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں