بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈیبٹ کارڈ پہ ملنے والے ڈسکاونٹ کا حکم


سوال

کیا ڈیبٹ کارڈ پہ دیا جانے والا ڈسکاونٹ حلال ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ سے ادائیگی کرنے کی صورت میں جو انعام (نقد رقم، پوائنٹ یا بچت و ڈسکاؤنٹ وغیرہ) ملتے ہیں اس کے حکم میں یہ تفصیل ہے :

1۔ اگر یہ انعام بینک کی طرف سے ملتا ہوتو اس صورت میں اس انعام کا حاصل کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ  بینک یہ رقم سودی آمدنی سے ادا کرے گا اور سودی رقم حرام ہے، لہذا یہ رقم بھی حرام ہے۔

2۔ اگر یہ انعام اس ادارے کی جانب سے ہو جہاں سے کچھ خریدا گیاہے یاوہاں کھاناکھایا گیاہے تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا۔

3۔ اگر انعام دونوں (یعنی بینک اور ادارہ ) کی طرف سے مشترکہ طور پر  ہو تو بینک کی طرف سے دیے جانے والے انعام کے بقدر انعام سے فائدہ اٹھانا درست نہ ہوگا۔

4۔اگر  انعام نہ تو بینک کی طرف سے ہو اور نہ ہی جس ادارے سے خریداری ہوئی ہے اس کی طرف سے ہو، بلکہ ڈیبٹ کارڈ بنانے والے ادارے کی طرف سے  ہو، تو اگر اس ادارے کے تمام یا اکثر معاملات بھی جائز ہوں اور ان کی آمدن کل یا کم از کم اکثر حلال ہو تو اس صورت میں بھی اس انعام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔

5۔ اگر معلوم نہ ہوکہ یہ انعام کس کی طرف سے ہے تو پھر اس انعام سے فائدہ اٹھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاویٰ شامیمیں ہے:

"(قوله : كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً كما علم مما نقله عن البحر."

( مطلب كل قرض جر نفعاً حرام ٥/ ١٦٦ ط: سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"ولايجوز قرض جر نفعاً، بأن أقرضه دراهم مكسرةً بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاماً في مكان بشرط رده في مكان آخر ... و في الخلاصة: القرض بالشرط حرام."

( فصل في بيان التصرف في المبيع و الثمن ٦/ ١٣٣، ط:دار الكتب الاسلامي )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307100274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں