بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دواساز کمپنی کی طرف سے ملنے والا کمیشن/ تحفے


سوال

میرے ایک جاننے والے ڈاکٹر ہیں, ان کی فیملی ایک بات کے بابت پوچھنا چاہتے ہیں، ان ڈاکٹر کو میڈیسن کمپنیز کی طرف سے تحفے تحائف ملتے ہیں، اکثر تحفے بہت قیمتی ہوتے ہیں، اس میں کھانے پینے کی اشیاء بھی شامل ہوتی ہیں، وہ ڈاکٹر جہاں ضروری سمجھتے ہیں صرف وہیں اس کمپنی کی دوا لکھتے ہیں، ورنہ نہیں لکھتے، کیا ان کو ملنے والے تحفوں کا استعمال حرام ہے؟ یاد رہے کہ اس کمپنی کی میڈیسن واقعی بہت اچھی ہیں، اس لیے مذکورہ ڈاکٹر اپنے مریضوں کو وہ دوا لکھتے ہیں نہ کہ ان تحفوں کی وجہ سے۔

جواب

ڈاکٹر حضرات کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے کمپنیوں کی طرف سے ملنے والے تحائف یا کمیشن کا استعمال جائز ہے:

1۔ دوا تجویز کرتے وقت مریض کی مصلحت اور خیر خواہی کو مدنظر رکھا جائے۔

2 ۔ محض کمیشن، تحائف اور مراعات و سہولیات حاصل کرنے کی خاطر غیر معیاری و غیر ضروری ادویات تجویز نہ کی جائیں۔

3 ۔ کسی دوسری کمپنی کی دوائی مریض کے لیے زیادہ مفید ہونے کے باوجود خاص اسی کمپنی ہی کی دوائی تجویز نہ کی جائے۔

4 ۔ دوا ساز کمپنیاں ڈاکٹر کو دیے جانے والے کمیشن، تحفہ اور مراعات کا خرچہ دوائیاں مہنگی کرکے مریض سے وصول نہ کریں، یا خرچہ وصول کرنے کے لیے دوائیوں کے معیار میں کمی نہ کریں۔

اگر ان شرائط کا لحاظ رکھا جائے تو تحائف کا لین دین کمپنی اور ڈاکٹر کے لیے جائز ہے بصورت دیگرناجائز ہے ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143503200006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں