بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

دس تولہ استعمال کے زیورات میں زکاۃ کا حکم


سوال

دس تولہ سونے کے زیور جو کہ استعمال میں ہیں، کیا اس پر زکاۃ واجب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سونا  چاندی خواہ  زیوات کی شکل میں ہوں یا بسکٹ، ڈلی یا کسی اور شکل میں ہوں،  خواہ استعمال کے ہوں یا کسی اور مقصد  کے لیے ہوں بہرصورت اگر وہ نصاب کے برابر  یا اس سے زیادہ ہوں تو  ان پر زکاۃ واجب ہوتی ہے۔

لہذا دس تولہ سونے کے زیورات جس کی ملکیت میں ہوں وہ  صاحبِ نصاب ہے، لہٰذا اس میں چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) زکاۃ واجب ہوگی۔ خواہ دس تولہ سونے کا ڈھائی فیصد (0.25) تولہ سونا زکاۃ میں دیا جائے، یا اس کی قیمت دی جائے، دونوں اختیار ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201776

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے