بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

مرد درزی کا نامحرم عورتوں کے کپڑے سینا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں: کیا بلا ضرورت عورت غیر محرم مرد درزی سے سلائی کرا سکتی ہے؟

جواب

خواتین کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ کسی خاتون سے کپڑے سلوائیں، تاہم بوقتِ ضرورت یا فتنے کا اندیشہ نہ ہونے کی صورت میں عورت کے لیے غیر محرم درزی سے کپڑے سلوانا بھی جائز ہے،  اگر مرد درزی کے دل یا دماغ میں فاسد خیالات آئیں تو یہ گناہ ہوگا۔

یہ بھی واضح رہے کہ سلائی کے لیے نامحرم عورتوں کے جسم کا ناپ وغیرہ لینا بالکل ناجائز ہے۔

عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: المرأة عورة فإذا خرجت استشرفہا الشیطان. (ترمذي: ۱/۲۲۲)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201393

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں