بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

دروازہ پر دستک کتنی مرتبہ دی جائے؟


سوال

تین بار سے زیادہ دروازہ کھٹکھٹانا کیسا ہے?  اور اگر دروازے پر ایسا لاک لگا ہو جس سے کسی کی موجودگی کا اندازا  لگانا مشکل ہو  تب دروازہ پیٹنا جس سے ہمسائے کو بھی تکلیف کا سامنا ہو?

جواب

حدیث شریف میں آتا ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت چاہے اور اس کو اجازت نہ ملے تو اس کو لوٹ جانا چاہیے۔  اس حدیثِ مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کے گھر جائیں تو اجازت لینے کا سنت طریقہ یہ ہی ہے کہ تین مرتبہ اجازت لی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو رخصت ہو جانا چاہیے، وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں، اگر کوئی شخص دوسرے کے ہاں جائے اور تین سے زائد مرتبہ دروازے پر دستک دیتا ہے تو یہ خلافِ سنت ہو گا، خاص کر جب کہ اس کے دستک دینے سے ہم سایوں  کو تکلیف بھی ہوتی ہو،  اور اگر لاک  ایسا لگا ہوا ہو جس سے کسی کی موجودگی کا اندازا  لگانا مشکل ہو تو بھی تین مرتبہ دستک دینے سے یا گھنٹی بجانے سے جواب مل سکتا ہے، اگر کوئی جواب نہ آئے تو وہاں سے چلے جانا چاہیے۔

نیز دروازے پر دستک یا گھنٹی بجانے کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے ایک مرتبہ دستک دے کر یا گھنٹی بجاکر وقفہ کرلیا جائے، مسلسل دروازہ پیٹنا یا پے در پے گھنٹی بجانا یا ضرورت سے زیادہ زور سے دروازہ بجانا اسلامی آداب اور فطری وقار کے خلاف ہے۔

تفسير ابن كثير ط العلمية (6/ 33):

{ياأيها الذين آمنوا لاتدخلوا بيوتًا غير بيوتكم حتى تستأنسوا وتسلموا على أهلها ذلكم خير لكم لعلكم تذكرون (27) فإن لم تجدوا فيها أحدًا فلا تدخلوها حتى يؤذن لكم وإن قيل لكم ارجعوا فارجعوا هو أزكى لكم والله بما تعملون عليم (28) ليس عليكم جناح أن تدخلوا بيوتًا غير مسكونة فيها متاع لكم والله يعلم ما تبدون وما تكتمون (29)} 
هذه آداب شرعية، أدّب الله بها عباده المؤمنين، وذلك في الاستئذان أمرهم أن لايدخلوا بيوتًا غير بيوتهم حتى يستأنسوا، أي يستأذنوا قبل الدخول، ويسلّموا بعده، وينبغي أن يستأذن ثلاث مرات، فإن أذن له وإلا انصرف، كما ثبت في الصحيح أن أبا موسى حين استأذن على عمر ثلاثًا فلم يؤذن له انصرف، ثم قال عمر: ألم أسمع صوت عبد الله بن قيس يستأذن؟ ائذنوا له، فطلبوه فوجدوه قد ذهب، فلما جاء بعد ذلك قال: ما رجعك؟ قال: إني استأذنت ثلاثًا فلم يؤذن لي، وإني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا استأذن أحدكم ثلاثًا فلم يؤذن له فلينصرف»".

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (7/ 480):
"باب كم مرةً يسلّم الرجل في الاستئذان؟
5180 - حدثنا أحمد بن عبدة، أخبرنا سفيان، عن يزيد ابن خصيفة، عن بسر بن سعيد عن أبي سعيد الخدري، قال: كنت جالسًا في مجلس من مجالس الأنصار، فجاء أبو موسى فزعًا، فقلنا له: ما أفزعك؟ قال: أمرني عمر أن آتيه، فأتيته، فاستأذنت ثلاثًا، فلم يؤذن لي، فرجعت، فقال: ما منعك أن تأتيني؟ قلت: قد جئت، فاستأذنت ثلاثًا، فلم يؤذن لي، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا استأذن أحدكم ثلاثًا فلم يؤذن له فليرجع"، قال: لتأتيني على هذا بالبينة، قال: فقال أبو سعيد: لايقوم معك إلا أصغر القوم، قال: فقام أبوسعيد معه، فشهد له". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144107200318

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے