بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

دارالحرب اور دارالاسلام کی تعریف نیز اختلاف دارین کا مطلب


سوال

1.دار الحرب اور دار الاسلام کی تعریف کیا ہے اور کن ممالک کو دار الاسلام قرار دے سکتے ہیں ؟

2.نیز میراث میں جو موانع ارث ہے،ان میں اختلاف دارین ہے تو کیا اگر باپ سعودی میں رہتا ہوں اور بیٹا کینیا میں تو کیا میراث جاری ہوگی یا نہیں ؟

جواب

۱۔امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جہاں علی الاطلاق مسلمانوں کو امن حاصل ہو اور کفار کو خوف ، تو ایسے مقام کو ’’دارالاسلام ‘‘کہا جائے گا،اور جہاں علی الاطلاق مسلمانوں کو خوف لاحق ہو اور کفار کو امن حاصل ہو اسے ’’دارالکفر ‘‘کہاجائے گا۔جب کہ صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک اصل مدار قوانین اسلامی ہیں، جہاں اسلامی قوانین  واحکامات کانفاذ ہو وہ ’’دارالاسلام‘‘ اور جہاں کفریہ قوانین رائج ہوں وہ ’’دارالکفر ‘‘کہلائے گا۔

مفتی اعظم ہندمفتی کفایت اللہ ؒ لکھتے ہیں :

’’دارالحرب وہ ملک ہے جس میں کفار کی خود مختار حکومت ہو جو اپنی مرضی کے موافق جاری کرنے پر قادر ہو‘‘۔

(کفایت المفتی ، ج:1،ص؛37، ط: داالاشاعت )

۲۔موانع ارث میں سے اختلاف دارین  کا مطلب یہ ہے کہ دار(ملک ) الگ الگ ہو،یہ کافروں کے حق میں ہے ،یعنی اگر کسی کافر کا کوئی  وارث دارالاسلام  میں مرجائے ،یا دارالاسلام میں موجود کا فر کا وارث دارالحرب میں مرجائے تو یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔مسلمانوں کے حق میں اختلاف دارین وراثت سے مانع نہیں ہے، یعنی اگر کوئی وارث کسی اور ملک میں ہو تب بھی مورث کے انتقال کی صورت میں وہ وراثت کا حقدار ہوگا۔

البحرالرائق میں ہے :

"وكذلك اختلاف الدارين سبب لحرمان الميراث لأن الميراث إنما يستحق بالنصرة ولا تناصر عند اختلاف الدارين ولكن هذا الحكم في أهل الكفر لا في حق المسلمين حتى إن المسلم إذا مات في دار الإسلام وله ابن مسلم في دار الهند أو الترك يرث  ، وفي الكافي ثم اختلاف الدارين على نوعين حقيقي كالحربي مات في دار الحرب وله ابن ذمي في دار الإسلام فإنه لا يرث الذمي من ذلك الحربي وكذا لو مات ذمي في دار الإسلام وله أب أو ابن في دار الحرب فإنه لا يرث ذلك الحربي من ذلك الذمي ، وحكمي كالمستأمن والذمي حتى لو مات مستأمن في دارنا لا يورث منه وارثه الذمي."

(ج:8،ص:557،ط:دارالمعرفہ بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے :

’’...وقال أبو يوسف ومحمد - رحمهما الله : إنها تصير دار الكفر بظهور أحكام الكفر فيها .( وجه ) قولهما أن قولنا دار الإسلام ودار الكفر إضافة دار إلى الإسلام وإلى الكفر ، وإنما تضاف الدار إلى الإسلام أو إلى الكفر لظهور الإسلام أو الكفر فيها ، كما تسمى الجنة دار السلام ، والنار دار البوار ؛ لوجود السلامة في الجنة ، والبوار في النار وظهور الإسلام والكفر بظهور أحكامهما ، فإذا ظهر أحكام الكفر في دار فقد صارت دار كفر فصحت الإضافة ، ولهذا صارت الدار دار الإسلام بظهور أحكام الإسلام فيها من غير شريطة أخرى ، فكذا تصير دار الكفر بظهور أحكام الكفر فيها والله - سبحانه وتعالى - أعلم .( وجه ) قول أبي حنيفة - رحمه الله - أن المقصود من إضافة الدار إلى الإسلام والكفر ليس هو عين الإسلام والكفر ، وإنما المقصود هو الأمن والخوف .

ومعناه أن الأمان إن كان للمسلمين فيها على الإطلاق ، والخوف للكفرة على الإطلاق ، فهي دار الإسلام ، وإن كان الأمان فيها للكفرة على الإطلاق ، والخوف للمسلمين على الإطلاق ، فهي دار الكفر والأحكام مبنية على الأمان والخوف لا على الإسلام والكفر ، فكان اعتبار الأمان والخوف أولى ‘‘.

(ج:7،ص؛131،ط:بیروت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144411102512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں