بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

درمیانِ سال میں مستفاد مال پرزکوۃ کا حکم


سوال

میں ہر سال ماہ رمضان میں اپنے پورے سال کی زکوٰۃ ادا کرتا ہوں، اس سال رمضان کی آمد سے قبل میرے پاس نصاب سے زیادہ رقم ہے، رمضان سے تقریباً دو ماہ قبل اپنے مکان کو فروخت کرنے سے مجھے ایک بڑی رقم حاصل ہوئی ہے، دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا مجھے اس رمضان میں اس رقم پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، جب کہ مجھے یہ رقم صرف دو ماہ قبل حاصل ہوئی ہےیا مکان کو فروخت کرنے سے حاصل ہونے والی اس رقم پر سال مکمل ہونے کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی۔

جواب

اگر کوئی شخص پہلے سےصاحبِ نصاب ہو اور  سال گزرنے سے پہلےاُس کے پاس مزید مال آجائے  توزکوۃ کا سال پورا ہونے پر موجود مال( چاہے اس پر سال گزر گیا ہو یا سالگزرنے سے پہلےملکیت میں آیا ہو) کے مجموعہ میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ  ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، سال گزرنے سے پہلے ملکیت میں آنے والے مال پر الگ سےنیا سال گزر جانا ضروری نہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل جب پہلے سےصاحبِ نصاب ہےاور ہر سال رمضان میں زکوۃ ادا کرتاہے تو سائل کے پاس جو رقم مکان کے فروخت کرنے سےحاصل ہوئی ہے،اس پر الگ سےمکمل سال گزرنا ضروری  نہیں،  بلکہ رمضان میں جو بھی مال موجود ہو( چاہے گزشتہ یا رمضان سے پہلے حاصل ہونے والی رقم) اس کے مجموعہ میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ اد اکردی جائے۔

نیز : زکوۃ کے حساب کے لیے بھی رمضان کی کوئی ایک تاریخ مثلاً دس ، پندرہ ، یا  بیس ،وغیرہ طے کرنا ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالًا من جنسه ضمّه إلی ماله و زکّاه سواء  کان المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمّه سواء كان بمیراث أو هبة أو غیر ذلك."

(كتاب الزكاة،الباب الأول،ج:1،ص:175،ط:مکتبه حقانیه)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408101267

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں