بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ڈاڑھی منڈے شخص کی اذان کے اعادہ کا حکم


سوال

 داڑھی منڈا شخص اذان کہے تو اذان دبارہ دہرانی پڑی گی یا نہیں ؟

جواب

داڑھی  شیو کرانا  یا کترواکر ایک مشت سے کم کروانا ناجائز اور حرام ہے، ایسا شخص فاسق ہے، اور اس کا اذان اور اقامت کہنا  مکروہِ تحریمی ہے، لہذا داڑھی والے لوگوں کی موجودگی میں یہ شخص اذان و اقامت نہ کہے، البتہ اگر ڈاڑھی منڈنے نے اذان دے دی ہو تو اس کو دوبارہ لوٹانا واجب نہیں ہے۔

’’ وینبغی أن یکون المؤذن رجلاً عاقلاً صالحاً تقیاً عالماً بالسنة. کذافي النهایة. ‘‘( الفتاوى الهندية، ۵۳ / ۱ ) 
’’ ویکره أذان الفاسق ولایعاد. هکذافي الذخیرة. ‘‘  (الفتاوى الهندية، ۵۴ / ۱ )
۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200871

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں