بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈاڑھی کی مقدار اور حد / ریش بچہ کاٹنا اور ڈاڑھی کی ڈیزائن بنانا / مونچھوں پر استرا لگانا


سوال

1۔  سنت کے مطابق ڈاڑھی کی مقدار کیا ہے؟  کان کے نیچے جو بال  ڈاڑھی کے ہوتے ہیں،  کیا ان  میں کمی کی جاسکتی ہے؟

2۔ نچلے ہونٹ  کے نیچے جو بال ہوتے کیا وہ بھی ڈاڑھی میں شمار ہوتے ہیں؟

3۔ بعض لوگ ڈاڑھی کو دبا  دبا کر گردن اور تھوڑی کے نیچے چھپاتے ہیں،  اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ ڈاڑھی کو خش خشی کرنے والے یا   دبا  دبا کر گردن اور تھوڑی کے نیچے  چھپانے والے مسجد کے امام کے پیچھے نمازوں کا کیا حکم ہے؟

4۔ فی زمانہ جو نت نئے انداز کی ڈاڑھیاں رکھی جارہی ہیں،  اس شرعی حکم کیا ہے؟

5۔ مونچھوں پر استرا لگوانا کیسا ہے؟

جواب

1: داڑھی رکھنا واجب ہے،   اور اس کو منڈوانا یا کترواکر ایک مشت سےکم کرنا ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے۔کانوں کے پاس جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہے،  یہاں سے داڑھی کی ابتدا ہےاور  پورا جبڑا  داڑھی کی حد ہے، اور بالوں کی لمبائی کے لحاظ سے داڑھی کی مقدار ایک مشت ہے، اس سے زائد بال ہوں تو ایک مشت کی حد تک اس کو کاٹ سکتے ہیں، لہذا کان کے نیچے جو بال ہیں ، اگر وہ جبڑے کی ہڈی سے باہر ہوں تو ان کو کاٹنا جائز ہے۔

2:  نچلے ہونٹ سے متصل تھوڑی کے اوپر کے بال اور اس کے دائیں بائیں  کا حصہ، جسے ریش بچہ  کہا جاتا ہے،یہ  داڑھی ہے، اس کو  منڈوانایانوچنا بدعت و خلافِ سنت ہے، البتہ ہونٹوں کے قریب دونوں کناروں سے بال ختم کرنا؛ تاکہ کھانا کھاتے وقت منہ میں نہ جائیں ،درست ہے۔

3:  ڈاڑھی منڈوانا یا کترواکر ایک مشت سےکم کرنا ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے، ایسا شخص فاسق ہے، اس کی اقتداء میں نماز ادا  کرنا مکروہ تحریمی ہے، باقی اگر کوئی شخص ڈاڑھی  ایک مشت سے کم نہیں کرتا،  صرف دبا کر  گردن اور تھوڑی کے نیچے کرتا ہے تو یہ شرعاً یہ ڈاڑھی کاٹنے کے حکم میں نہیں ہے، البتہ  ڈاڑھی کو چوں کہ تیل لگاکر گنگھی وغیرہ کرکے سلیقہ سے رکھنا سنت  سے ثابت ہے، اس لیے ڈاڑھی  چھپانے کے غرض اس کو گردن اور تھوڑی کے نیچے چھپانا، نامناسب ہے۔

4: ڈاڑھی ایک مشت سے کم کروانا ناجائز اور حرام ہے، پھر اس میں مختلف ڈیزائن بنوانا اور زیادہ قبیح ہے، اس میں سنت کا مذاق اور توہین ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔

5: نبی کریم ﷺ کا معمول مونچھیں خوب کترنے کا تھا، اس لیے مونچھیں اچھی طرح کتروانا سنت ہے،یعنی قینچی وغیرہ سے  کاٹ کر اس حد تک چھوٹی کردی جائیں کہ مونڈنے کے قریب معلوم ہوں، احادیثِ طیبہ میں مونچھوں کے بارے میں  ’’جزّ‘‘، ’’اِحفاء‘‘اور ’’اِنهاک‘‘کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان سے قینچی وغیرہ سے لینا ہی مفہوم ہوتا ہے؛ اس لیے کہ ان الفاظ کے معنی مطلق کاٹنے یا مبالغہ کے ساتھ کاٹنے یا لینے کے ہیں،  اسی لیے اکثر فقہاءِ احناف نے قصر یعنی قینچی سے مونچھیں کاٹنے کو ہی افضل قرار دیا ہے، البتہ استرہ اور بلیڈ سےمنڈانا بھی جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ قینچی کا استعمال کیاجائے،  احناف میں سے امام طحاوی رحمہ اللہ نے اگرچہ حلق کو افضل قرار دیا ہے، لیکن دیگر فقہاء  ( مثلاً ملک العلماء علامہ کاسانی رحمہ اللہ وغیرہ) فرماتے ہیں کہ مونچھوں میں حلق سنت نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و أما الأخذ منها وهي دون ذلك كما فعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه أحد، و أخذ كلها فعل يهود الهند و مجوس الأعاجم".

(2/ 418، كتاب الصوم ، باب مالايفسد الصوم، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"ونتف الفنيكين بدعة وهما جانبا العنفقة وهي شعر الشفة السفلى كذا في الغرائب."

(5 / 358، كتاب الكراهية، ط: رشيدية)

حلبی کبیر    میں ہے:

"و لو قدّموا فاسقاً يأثمون بناء علي أن كراهة تقديمه كراهة تحريم ؛ لعدم اعتنائه بأمور دينه، و تساهله في الإتيان بلوازمه..."الخ

(ص:513 ،514، كتاب الصلوة، الأولی بالإمامة، ط: سهيل اكيدمي)

فتاوی شامی میں ہے:

"واختلف في المسنون في الشارب هل هو القص أو الحلق؟ والمذهب عند بعض المتأخرين من مشايخنا أنه القص. قال في البدائع: وهو الصحيح. وقال الطحاوي: القص حسن والحلق أحسن، وهو قول علمائنا الثلاثة نهر. قال في الفتح: وتفسير القص أن ينقص حتى ينتقص عن الإطار، وهو بكسر الهمزة: ملتقى الجلدة واللحم من الشفة، وكلام صاحب الهداية على أن يحاذيه."

(2/ 550 ، كتاب الحج، باب الجنايات، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144310101289

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں