بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دانتوں میں میل جمے ہونے سے وضو اور غسل کا حکم


سوال

کیا دانتوں پر جو موٹی سی سفید تہہ جمی ہوئی ہوتی ہے  اس کی موجودگی وضو یا غسل ہو جائے گا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عام طور پر  دانتوں پر جو تہہ جم جاتی ہے،وہ وضو اور غسل کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہوتی،اس جمی ہوئی تہہ کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل ہوجائے گا،البتہ مسواک کا اہتمام کرنا چاہیے ،اور دانتوں کی صفائی کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح....(قوله: به يفتى) صرح به في الخلاصة وقال: لأن الماء شيء لطيف ‌يصل ‌تحته ‌غالبا."

(كتاب الطهارة،باب فرض الغسل، ج: 1، ص: 154، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144403101119

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں