بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 رمضان 1442ھ 11 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

دلال کا بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لینے کا حکم


سوال

1: میں پراپرٹی کا کام کرتا ہوں،   آپ سے پوچھنا یہ تھا کہ اگر کمیشن ایجنٹ ایمانداری سے کام کرے،  تو اس کو دونوں پارٹیوں کی طرف سے کمیشن دینا جائز ہے یا نہیں ؟ جائز کس صورت میں ہے اور ناجائز کس صورت میں؟

2:  اگر کمیشن ایجنٹ کہے کہ مجھے پلاٹ دس لاکھ کادے دو اس سے اوپر جتنے فروخت ہوگا، اس کے ساتھ آپ کا لین دین نہیں ہوگا،  اور مجھے کمیشن 5 ہزار بھی دینا ہوگا تو یہ صورت جائز ہے؟

جواب

1: اگر  مذکورہ ایجنٹ بائع اور مشتری میں سے کسی کاوکیل نہیں  ہے، اور اس نے بائع  اور مشتری کو آپس میں ملایا اور   ان کے درمیان  واسطے کا کردار ادا کیا، باقی معاملہ  (عقد) بائع اور مشتری نے  آپس میں خود کیا تو ایجنٹ کے لیے بائع اور مشتری دونوں  سے (یعنی جانبین سے) رابطہ کرانے کا متعینہ کمیشن لینا جائز ہے، تاہم اگر ایجنٹ  ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف سے وکیل بن کر معاملہ کرتا ہے تو   پھر جس کے جانب سے وکیل ہے  صرف اسی سےکمیشن لینا جائز ہے،  دوسرے  سے  کمیشن  لینا جائز نہیں ہے،  کیوں کہ اگر سامان بائع خود نہ بیچے، بلکہ کمیشن ایجنٹ اس کی طرف سے وکیل بن کر سامان فروخت کرے تو ایسی صورت میں کمیشن ایجنٹ "عاقد"  بن  جائے گا، اور عاقد  اس شخص  سے کمیشن نہیں لے سکتا جس سے وہ عقد کررہا ہو؛ کیوں کہ وہ اس کو کوئی اضافی خدمت فراہم نہیں کررہا، صرف سامان بیچ رہا ہے، لہٰذا اس صورت میں وہ مشتری سے صرف سامان کی قیمت وصول کرنے کا حق دار ہے، کمیشن کا حق دار نہیں۔

2: مذکورہ  کمیشن ایجنٹ کا پلاٹ فرخت کرنے پر متعین کمیشن (پانچ ہزار) لینا تو جائز ہے، تاہم یہ معاملہ جائز نہیں ہےکہ  مذکورہ پلاٹ دس لاکھ سے اوپر جتنے کا فروخت ہوگا اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا پلاٹ جتنے پر فروخت ہوگا  پوری قیمتِ  فروخت  مالک  کی ہی ہوگی، اور کمیشن ایجنٹ کے  لیے متعین کمیشن ہوگا۔

ہاں اگر ایجنٹ  کمیشن کا معاملہ نہ کرے، بلکہ پلاٹ کے مالک سے اس کی رضامندی سے کوئی قیمت طے کرکے یہ پلاٹ پہلے خود خریدلے اور باقاعدہ اپنے  قبضے میں لے لے، تو اب مالک بننے کے بعد وہ اسے جس قیمت پر بھی آگے فروخت کرے گا اس کا مالک وہی ہوگا، لیکن اس صورت میں کمیشن وصول کرنا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين." 

(كتاب البيوع، فروع فى البيع، ج:4، ص:560، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144209200757

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں