بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

دفعِ وبا کے لیے محلے یا گاؤں کی بندش کرنے کا حکم


سوال

ڈائریا  ایک  عام وبا  ہے،  جس میں  لوگ بیمار ہوتےہیں اور مرتے بھی ہیں، ـ ایسی صورت میں گاؤں،  محلے  کی بندِش کرنا یعنی عامل لوگ پورے گاؤں کی بندِش کرتے ہیں ـ کیا یہ جائز ہے ؟ مدلل جواب مرحمت فرمائیں ـ!

جواب

صورتِ مسئولہ  میں سوال میں ذکرکردہ بندش سے  مراد  اگر  مختلف آفات وغیرہ سے قرآنی آیات، مسنون دعاؤں اور غیر شرکیہ الفاظ وغیرہ سے پناہ چاہنا ہے  اور اللہ  تعالیٰ سے  شفا  طلب کرنے کے  لیے کسی بھی بیماری وآفت سے بچنے کے  لیے پورے گاؤں  پر قرآنی آیات اور ادعیہ ماثورہ   پڑھ کر دم کرنا ہے، تو ایسا عمل کرنا  درست اور جائز ہے ،   مختلف احادیث میں مختلف بیماریوں سے شفاء کے  لیے آپﷺ نے  دم کرنے کی اجازت دی ہے،  بلکہ دم کرنا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ جیسے کہ مروی ہے:

"عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْحُمَةِ وَالْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ."

(أبواب الطب، باب ماجاء فی الرخصۃ فی الرقیۃ، رقم الحدیث:2056، ج:4، ص:393، ط:داراحیاء التراث العربی)

ترجمہ:حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچھو کے کاٹنے، نظر بد اور پہلو کے زخم (پھنسیوں وغیرہ) میں جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔ 

"عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ يَقُولُ أُعِيذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ کُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَيَقُولُ هَکَذَا کَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ إِسْحَقَ وَإِسْمَعِيلَ عَلَيْهِمْ السَّلَام."

(ابواب الطب، الرقیۃ من العین، رقم الحدیث:2060، ج:4، ص:393، ط:داراحیاء التراث العربی)

ترجمہ: حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسن اور حسین (رض) کے لیے ان الفاظ سے دم کیا کرتے تھے  (أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ ) یعنی میں تم دونوں کے لیے اللہ کے تمام کلمات کے وسیلے سے ہر شیطان، ہر فکر میں ڈالنے والی اور ہر نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے کہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر اسی طرح دم کیا کرتے تھے۔ 

"عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَيْسٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ وَلَدَ جَعْفَرٍ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ فَقَالَ نَعَمْ فَإِنَّهُ لَوْ کَانَ شَيْئٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ."

(أبواب الطب، الرقیۃ من العین، رقم الحدیث:2059، ج:4، ص:393، ط:داراحیاء التراث العربی)

ترجمہ: حضرت عبید بن رفاعہ زرقی (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جعفر کے بیٹوں کو جلدی نظر لگ جاتی ہے،  کیا میں ان پر دم کردیا کروں؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:  ہاں۔ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے سکتی ہے تو وہ نظر بد ہے۔  

"عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ فَسَأَلْنَاهُمْ الْقِرَی فَلَمْ يَقْرُونَا، فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا، فَقَالُوا: هَلْ فِيکُمْ مَنْ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا وَ لَکِنْ لَاأَرْقِيهِ حَتَّی تُعْطُونَا غَنَمًا، قَالَ: فَأَنَا أُعْطِيکُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً، فَقَبِلْنَا، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَبَرَأَ وَقَبَضْنَا الْغَنَمَ، قَالَ: فَعَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْئٌ، فَقُلْنَا: لَا تَعْجَلُوا حَتَّی تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ ذَکَرْتُ لَهُ الَّذِي صَنَعْتُ، قَالَ: وَ مَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ! اقْبِضُوا الْغَنَمَ وَ اضْرِبُوا لِي مَعَکُمْ بِسَهْمٍ."

(أبواب الطب، أخذ الأجر علی التعویذ، رقم الحدیث:2063، ج:4، ص:393، ط:داراحیاء التراث العربی)

ترجمہ: حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک لشکر میں بیجا تو ہم ایک قوم کے پاس ٹھہرے اور ان سے ضیافت طلب کی لیکن انھوں نے ہماری میزبانی کرنے سے انکار کردیا۔ پھر ان کے سردار کو بچھونے ڈنک مار دیا۔ وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی بچھو کے کاٹے پر دم کرتا ہے۔ میں نے کہا ہاں لیکن میں اس صورت میں دم کروں گا کہ تم ہمیں بکریاں دو ۔ انھوں نے کہا ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے۔ ہم نے قبول کرلیا اور پھر میں نے سات مرتبہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹیک ہوگیا اور ہم نے بکریاں لے لی پھر ہمارے دل میں خیال آیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم جلدی نہ کریں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ لیں۔ جب ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو میں نے پورا قصہ سنایا۔ فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورت فاتحہ سے دم کیا جاتا ہے۔ بکریاں رکھ لو اور میرا حصہ بھی دو۔

تاہم مذکورہ  عمل کے  لیے تین شرائط  ہیں:

1: قرآن اور  احادیث  سے ثابت شدہ دعاؤں کا مجموعہ ہو۔

2: یا ایسے الفاظ کے ذریعے  ہو جس کا معنی معلوم ہو اور  ان میں  شرکیہ الفاظ کا سہارا نہ لیا گیا ہو۔

3:رقیہ کو   فی نفسہ  (بذاتِ خود) مؤثر نہ سمجھاجائے۔

اگر مذکورہ تین شرائط  میں سے کوئی بھی  شرط مفقود  ہوا تو وہ رقیہ (دَم) غیرشرعی ہوگا  جس کے کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور  جن احادیث میں رقیہ  کی ممانعت وارد ہے، اس سے مراد  رقیہ غیرشرعیہ  ہے،  البتہ  مذکورہ شرائط بالا  کا لحاظ کرتے ہوئے مختلف وظائف وغیرہ کے ذریعے دم کرنا نہ صرف جائز  ہے، بلکہ ایک مستحسن ومفید عمل ہوگا۔

تاہم  اگر سوال میں بندش کرنے سے مراد کوئی اور غیرشرعی عمل ہے تواس کی پوری  وضاحت ہوجانے کے بعد جواب دیا جاسکتا ہے۔

النهاية في غريب الأثر  میں ہے:

"والرُّقْيَة : العُوذة التي يُرْقى بها صاحب الآفة كالحُمَّى والصَّرع وغير ذلك من الآفات . وقد جاء في بعض الأحاديث جَوازُها وفي بعضها النَّهْي عنها : 

 ( س ) فمِنَ الجَواز قوله [ اسْتِرْقُوا لَها فإنّ بها النَّظْرة ] أي اطْلُبوا لها مَن يَرْقيها  ( س ) ومن النَّهْي قوله [ لا يَسْتَرْقُون ولا يكْتَوُون ] والأحاديث في القِسْمين كثيرة

ووَجْه الجَمْع بينهما أنّ الرُّقَي يُكْرَه منها ما كان بغير اللِّسان العَرَبِيّ وبغير أسماء اللّه تعالى وصِفاته وكلامِه في كُتُبه المُنَزَّلة وأن يَعتَقد أن الرُّقْيا نافِعَة لا مَحالة فَيَّتِكل عليها وإيَّاها أراد بقوله [ ما تَوَكَّل من اسْتَرقَا ] ولا يُكْره منها ما كان في خلاف ذلك كالتَّعَوّذ بالقُرآن وأسماء اللّه تعالى والرُّقَى المَرْوِيَّة ولذلك قال للذي رَقَى بالقرآن وأخَذَ عليه أجْراً : [ من أخَذ بِرُقْيَة بَاطِلٍ فقد أخَذْتَ بِرُقْية حَقّ ] 

 ( س ) وكقوله في حديث جابر [ أنه عليه الصلاة والسلام قال : اعْرِضُوها عليَّ فعرَضْنَاها فقال : لا بأس بها إنَّما هي مَواثِيقُ ] كأنه خاف أن يَقَع فيها شيء مما كانوا يَتلَّفظون به ويعتَقِدونه من الشِّرْك في الجاهلية وما كان بغير اللسان العَرَبيّ ممَّا لا يُعْرف له تَرْجَمة ولا يُمْكن الوُقوف عليه فلا يجوز اسْتِعْمالُه .  ( س ) وأمّا قوله [ لا رُقْيَة إلَّا مِن عَيْنٍ أو حٌمَة ] فمعناه لا رُقْيَة أوْلَى وأنفَع . وهذا كما قيل : لا فَتي إلَّا عَلِيّ . وقد أمَر عليه الصلاة والسلام غير وَاحِد من أصحابه بالرُّقْية . وسَمع بجماعة يَرْقون فلم يُنْكِر عليهم.

(باب الراء مع القاف، ج:2، ص:621، ط:المكتبة العلمية)

حجة الله البالغة  میں ہے:

"وَأما الرقي فحقيقتها التَّمَسُّك بِكَلِمَات لَهَا تحقق فِي الْمثل وَأثر، وَالْقَوَاعِد الملية لَا تدفعها مَا لم يكن فِيهَا شرك لَا سِيمَا إِذا كَانَ من الْقُرْآن أَو السّنة أَو مِمَّا يشبههما من التضرعات إِلَى الله."

(اللباس والزينة والأوانى وغيرها، ج:2، ص:300، ط:دارالجيل.بيروت)

الموسوعة الفقهية میں ہے:

"أَجْمَعَ الْفُقَهَاءُ عَلَى جَوَازِ التَّدَاوِي بِالرُّقَى عِنْدَ اجْتِمَاعِ ثَلاَثَةِ شُرُوطٍ: أَنْ يَكُونَ بِكَلاَمِ اللَّهِ تَعَالَى أَوْ بِأَسْمَائِهِ وَصِفَاتِهِ، وَبِاللِّسَانِ الْعَرَبِيِّ أَوْ بِمَا يُعْرَفُ مَعْنَاهُ مِنْ غَيْرِهِ، وَأَنْ يَعْتَقِدَ أَنَّ الرُّقْيَةَ لاَ تُؤَثِّرُ بِذَاتِهَا بَل بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى. فَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَال: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُول اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَال: اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، لاَ بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ وَمَا لاَ يُعْقَل مَعْنَاهُ لاَ يُؤْمَنُ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى الشِّرْكِ فَيُمْنَعُ احْتِيَاطًا."

(باب التداوى بالرقى والتمائم، ج:11، ص:123، ط:دارالسلاسل) 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"رقية فيها اسم صنم أو شيطان أو كلمة كفر أو غيرها مما لايجوز شرعاً، ومنها ما لم يعرف معناها".

(كتاب الطب والرقى، ج:7، ص:2827، ط:دارالفكر. بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144301200204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں