بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

دفعِ وبا کے لیے اجتماعی اذان دینے کا حکم


سوال

وبا کے موقع پراجتماعی اذان دینا کیسا ہے؟

جواب

وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے، نیز فقہائے احناف سے بھی اس موقع پر اذان دینے کے بارے میں کوئی روایت منقول نہیں ہے، البتہ شوافع کے ہاں  مصائب، شدائد اور عمومی پریشانیوں کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت منقول ہے؛ اس لیے وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہوگی، تاہم یہ اذان مساجد میں نہ دی جائے،  نیز اس انداز سے بھی نہ دی جائے کہ نماز کے لیے اذان ہونے کا اشتباہ ہو۔سنت یا مستحب سمجھے بغیر، بطورِ علاج ہو اور اجتماعی ہیئت کا التزام نہ ہو تو  اجازت ہے،  بہتر یہ ہے کہ انفرادی طور پر دی جائے۔

کفایت المفتی میں ہے :

’’سوال : دفع وباء کے لیے اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟ تنہا یا گروہ کے ساتھ مسجد میں یا گھر میں؟

جواب : دفع وباء کے لیے اذانیں دینا تنہا یا جمع ہوکر بطور علاج اور عمل کے مباح ہے، سنت یا مستحب نہیں‘‘۔  (۳ / ۵۲، دار الاشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

’’ شرعاً دفع بلا کے لیے اذان اس طرح کہی جائے کہ اذان نماز کا اشتباہ نہ ہو‘‘۔ (۳ / ۲۹۸، دار الافتاء فاروقیہ )

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (2 / 547):
"وخرج بها الأذان الذي يسن لغير الصلاة كالأذان في أذن المولود اليمنى، والإقامة في اليسرى، ويسن أيضًا عن الهم وسوء الخلق لخبر الديلمي، «عن علي: رآني النبي صلى الله عليه وسلم حزينًا فقال: (يا ابن أبي طالب إني أراك حزينًا فمر بعض أهلك يؤذن في أذنك، فإنه درأ الهم) قال: فجربته فوجدته كذلك». وقال: كل من رواته إلى علي أنه جربه، فوجده كذلك. وروى الديلمي عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «من ساء خلقه من إنسان أو دابة فأذنوا في أذنه» )".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 385):
"(قوله: لايسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود. وفي حاشية البحر الرملي: رأيت في كتب الشافعية أنه قد يسن الأذان لغير الصلاة، كما في أذان المولود، والمهموم، والمصروع، والغضبان، ومن ساء خلقه من إنسان أو بهيمة، وعند مزدحم الجيش، وعند الحريق، قيل: وعند إنزال الميت القبر؛ قياسًا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر في شرح العباب، وعند تغول الغيلان: أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فيه. أقول: ولا بعد فيه عندنا. اهـ. أي لأن ما صح فيه الخبر بلا معارض فهو مذهب للمجتهد وإن لم ينص عليه، لما قدمناه في الخطبة عن الحافظ ابن عبد البر والعارف الشعراني عن كل من الأئمة الأربعة أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي، على أنه في فضائل الأعمال يجوز العمل بالحديث الضعيف كما مر أول كتاب الطهارة، هذا، وزاد ابن حجر في التحفة الأذان والإقامة خلف المسافر. قال المدني: أقول وزاد في شرعة الإسلام لمن ضل الطريق في أرض قفر: أي خالية من الناس. وقال المنلا علي في شرح المشكاة قالوا: يسن للمهموم أن يأمر غيره أن يؤذن في أذانه فإنه يزيل الهم، كذا عن علي - رضي الله عنه - ونقل الأحاديث الواردة في ذلك فراجعه. اهـ". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144108200356

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے