بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

دادی کا پوتے کے منہ میں پستان دینے کا حکم


سوال

ایک لڑکا جس کا نام  زید ہے اس کو ایک سال کی عمرمیں ان کی دادی نےاپنی چھاتی چُسوائی تھی جب کہ دادی کے آخری بیٹے اور اس پوتے (زید) کی عمر میں دس سال کا فرق ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ  زید اپنی دادی کا رضاعی بیٹا شمارہوگا یا نہیں؟اور  زید  کے چچا اور پھوپھیاں  اس کے رضاعی بہن بھائی ہوں گے  یانہیں؟اور  زید کا نکاح اپنے سگے چچا کی بیٹی سے جائزہے یانہیں؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب  زید کی دادی نے اس  کے منہ میں اپنے پستان دیے تھے تو اگر اس وقت ان کو دودھ آتا تھا تو اس صورت میں حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی اور  زید کے  چچا اور پھوپھیاں اس کے رضاعی بہن بھائی شمار ہوں گے  اور  اس کے لیے اپنے چچا کی بیٹی  سے  نکاح کرنا جائز نہ ہوگا۔ البتہ اگر دادی  کو دودھ آنا بند ہوگیا تھا یا وہ خود بتا دیں کہ دودھ بچےکے حلق میں نہیں گیا تھا تو اس صورت میں حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوگی اور چچا کی  بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہوگا، لہذا  زید اپنی دادی سے معلوم کرلیں، اگر وہ حیات ہوں، یا جس وقت انہوں نے اس کے منہ میں پستان دیے تھے اور ان کے بارے میں معروف تھا کہ دودھ آنا بند ہوچکا ہے، تو اس صورت میں حرمت  ثابت نہیں ہوگی اور نکاح جائز ہوگا۔

 الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین میں ہے:

"(ويثبت به) و لو بين الحربيين، بزازية (و إن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة و لم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم؛ لأن في المانع شكًّا، ولوالجية.

و فی الحاشیه: وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك."

(کتاب النکاح ،باب الرضاع ج3ص:212 ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان."

(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:3 ص: 213 ط:سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144305100507

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں