بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کسٹمر لانے پر چین در چین کمیشن کا لینا دینا


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ Aim global ایک کمپنی ہے جس میں آن لائن کام کیا جاتا ہے اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ اس کمپنی کے پراڈکٹس کو خریدنا ہے پھر دو اور بندوں کو لے کے آنا ہے ان دو بندوں کے آنے سے آپ کو کچھ بونس بھی ملتا ہے ان پراڈکٹس کو فروخت کرنے کا آپ کو%30 یا25%ملتا ہے اور پاکستان میں رجسٹرڈ بھی ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں بلا  محنت  کی کمائی   کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور  اپنی محنت   کی کمائی   حاصل کرنے کی ترغیب ہے  اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل کمائی قراردیا ہے، اسلامی معیشت کے اصولوں کی رو سے  کمیشن کو مستقل تجارتی حیثیت حاصل نہیں ہے، بلکہ فقہاء کرام نے  کمیشن کے معاوضہ کو اجارہ کے اصولوں سے منحرف ہونے اور جسمانی محنت کے غالب عنصر سے خالی ہونے کی بنا پر ناجائز قرار دیا ہے،  لیکن لوگوں کی ضرورت اور کثرت تعامل کی بنا پر کمیشن کے معاملہ کی محدود اجازت دی ہے، لیکن ساتھ ہی اکثر صورتوں کے ناجائز ہونے کی صراحت کی ہے۔

لہذا  جس  معاملہ میں خود اپنی محنت اور عمل شامل ہو اس کا کمیشن لینا تو جائز ہے، لیکن اس طرح    کسی   سائٹ کی پبلسٹی کرناکہ  جس میں چین در چین کمیشن ملتا رہے جب کہ  اس نے  بعد والوں  کی خریداری میں  کوئی عمل نہیں کیا ، اور اس میں بالائی (اوپر والے) ممبر کی کوئی خاص محنت شامل نہیں ہوتی ،  بلکہ ماتحت ممبران کی محنت کا ثمرہ ہوتا ہے اور یہ دوسرے کی محنت سے فائدہ اٹھانا جو کہ استحصال کی ایک شکل ہے، اور یہ جائز نہیں ہے۔

حاصل یہ ہے کہ   کسٹمر کو لانے والے شخص کا اس پہلے کسٹمر کے لانے پر  کمیشن کا لین دین تو جائز ہے، لیکن اس کے بعد چین در چین یہ سلسلہ چلنا کہ ہر بعد والے کسٹمر کا کمیشن بھی پہلے والے  شخص کو ملتا رہے یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ جس بھی کمپنی یہ بنیادی خرابی ہو  اس کمپنی کا ممبر بننا جائز نہیں ہوگا۔

مسند أحمد میں ہے:

"عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود،، عن أبيه، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة".

(مسند الامام احمد، رقم الحديث:3783، 30/4، القاهرة)

شعب الايمان للبیہقی میں ہے:

"عن سعيد بن عمير الأنصاري، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الكسب أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور."

(شعب الایمان للبیہقی، رقم الحدیث:1171، 434/2، الرشد)

رد المحتار میں ہے:

" قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لايقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز؛ لما كان للناس به حاجة، ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل، وذكر أصلاً يستخرج منه كثير من المسائل، فراجعه في نوع المتفرقات والأجرة على المعاصي".

(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الاجارة، باب الاجارة الفاسدة،47/6، سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144307102454

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں