بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کرنٹ یا دھماکے کے ذریعہ مچھلی کا شکار


سوال

کرنٹ لگا کر او ر دھماکے سے مچھلی کا شکار کرنا کیسا ہے؟

جواب

کرنٹ   یا دھماکے کے ذریعہ شکار کی گئی مچھلی حلال ہے،  اس کا کھانا جائز ہے؛ کیوں کہ اس طرح  مچھلی کے شکار میں انسان کا عمل دخل شامل ہوتاہے،اس کو "طافی "  نہیں کہا جائے گا؛ کیوں کہ طافی  اس مچھلی  کو کہا جاتا ہے جو کسی آفت اور سبب کے بغیر خود مر جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 306):

"(ولا) يحل (حيوان مائي إلا السمك) الذي مات بآفة ولو متولدًا في ماء نجس ولو طافية مجروحة وهبانية (غير الطافي) على وجه الماء الذي مات حتف أنفه وهو ما بطنه من فوق، فلو ظهره من فوق فليس بطاف فيؤكل كما يؤكل ما في بطن الطافي، وما مات بحر الماء أو برده وبربطه فيه أو إلقاء شيء فموته بآفة، وهبانية.

(قوله: وما مات بحر الماء أو برده) وهو قول عامة المشايخ، وهو أظهر وأرفق تجنيس، وبه يفتى، شرنبلالية عن منية المفتي (قوله: وبربطه فيه) أي الماء؛ لأنه مات بآفة، أتقاني، وكذا إذا مات في شبكة لايقدر على التخلص منها، كفاية (قوله: أو إلقاء شيء) وكان يعلم أنها تموت منه. قال في المنح: أو أكلت شيئًا ألقاه في الماء لتأكله فماتت منه وذلك معلوم ط (قوله: فموته بآفة) أي جميع ما ذكر وهو الأصل في الحل كما مر".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200896

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں