بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کرنسی کے کاروبار میں شراکت


سوال

ڈالر  کے سودے  میں شراکت کرنا کیسا ہے؟  اور  اسے  منافع  کس  طرح  حاصل  کیا  جائے؟

جواب

کسی بھی جائز کاروبار میں شرکت    (partnership) جائز ہے، اور جس طرح دیگر کاروبار میں شرکت کی شرائط ہیں وہی ڈالر اور کرنسی کے کاروبار میں شرکت کرنے کی شرائط ہیں، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل لنک پر جامعہ کے فتویٰ میں مطالعہ کی جاسکتی ہے:

شراکت اور اس کے احکام

نیز ڈالر کو یا کسی بھی کرنسی کو خرید کر رکھنا اور پھر اس کے ریٹ مہنگے ہوجانے کے بعد اسے بیچ کر نفع کمانا حلال ہے، البتہ کرنسی کے بدلے کرنسی کی جو بیع  ہوتی ہے اس کی حیثیت بیع صرف کی ہے؛ اس لیے اس طرح کی بیع میں ادھار جائز نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ سودا نقد کیا جائے اور مجلس عقد میں ہی ہاتھ کے ہاتھ ہی جانبین سے عوضین پر قبضہ بھی ہوجائے ،ورنہ بیع فاسد ہوجائے گی۔ اور اگر ایک ہی ملک کی کرنسی کا اسی ملک کی کرنسی کے عوض معاملہ کیا جائے تو سودا نقد ہونے کے ساتھ ساتھ جانبین سے برابری بھی شرط ہوگی، ورنہ سود ہوجائے گا۔

کرنسی کے کاروبار میں شراکت کی صورت میں دونوں شریکوں کا مجلسِ عقد میں ہونا ضروری نہیں ہوگا، بلکہ کسی ایک شریک کے موجود ہونے سے بھی مجلسِ عقد میں اس فریق کا موجود ہونا ثابت ہوجائے گا، مثلاً زید اور عمرو نے شراکت کی، اور اب زید بکر کے ساتھ کرنسی کا نقد سودا کر رہاہو، اور بکر اور زید کی طرف سے عوضین پر مجلسِ عقد میں ہی تقابض (جانبین سے قبضہ) پایا جائے تو یہ کافی ہے، کیوں کہ یہاں زید عمرو کا وکیل ہے، اور وکیل کا قبضہ موکل کا قبضہ ہے، اسی طرح اگر عمرو سودا کرے تو زید کا موجود ہونا ضروری نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 257)

"(هو) لغةً: الزيادة. وشرعاً: (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنساً بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة، (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزناً، (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق)، وهو شرط بقائه صحيحاً على الصحيح، (إن اتحد جنساً وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) ؛ لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء، (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافاً أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح)."

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200621

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں