بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1442ھ 29 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

دانت پر کراون یعنی کور لگانے کی صورت میں غسل


سوال

دانت پر کراؤن یعنی کور لگانے کی صورت میں غسل ہوتاہے کہ نہیں ؟

جواب

بصورتِ مسئولہ دانت پر کراؤن یعنی کور   اگر اس طرح لگوائے ہوں کہ جب چاہیں انہیں نکالا جاسکتا ہو تو پھر فرض غسل کرتے وقت ان مصنوعی دانتوں کو ہٹا کر کلی کرنا لازم ہوگا، ورنہ غسل نہیں ہوگا،  لیکن اگر دانت اس طور پر لگوائے گئے ہوں کہ بلا مشقت ان کو ہٹانا ممکن نہ ہو تو پھر وہ جسم کا حصہ شمار ہوں گے اور فرض غسل  کرتے وقت انہیں نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان دانتوں کی موجودگی میں کلی کرنا کافی ہوگا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وكذا الإناء المضبب) أي الحكم فيه كالحكم في المفضض يقال باب مضبب أي مشدود بالضباب وهي الحديدة العريضة التي يضبب بها وضبب أسنانه بالفضة إذا شدها بها مغرب." 

(كتاب الحظر والابحة، ج:6، ص:344، ط:ايج ايم سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) لايمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى.

(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللا بالضرورة."

(كتاب كتاب الطهارة، مطلب في أبحاث الغسل، ج:1، ص:154، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله  اعلم 


فتوی نمبر : 144211201680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں