بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کریڈت کارڈ سے رقم کی ادائیگی


سوال

کریڈٹ کارڈ سے ہم جو رقم کی ادائیگی کرتے ہیں امتحان کی فیس لندن اور امریکہ میں توآسانی سے ادائیگی ہو جاتی ہے،اور اگر ڈرافٹ وغیرہ بناتے ہیں تو وقت لگتا ہے اور کبھی ضائع بھی ہو جاتا ہے،اور یہ ادائیگی سود سے خالی ہوتی ہیں،تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کریڈٹ کارڈ بنواتے وقت صارف بینک سے یہ معاہدہ کرتا ہے کہ اگرواجب الادا رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو اضافی رقم بطور سود ادا کروںگا،اس سودی معاہدہ کرنے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ کا استعمال شرعا نا جائز ہے۔اگر چہ صارف اس بات کا اہتمام بھی کر لے کہ رقم کی ادائیگی میں تاخیر نہ ہو تب بھی معاہدہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے یہ ناجائز ہے،اگر وقت پر ادائیگی کرلی تو سودی لین دین کا گناہ تو نہیں ہوگا البتہ سودی معاہدہ کا گناہ برقرار رہے گا۔ فقط واللہ اعلم۔


فتوی نمبر : 143101200686

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں