بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ کا حکم


سوال

کریڈٹ کارڈ کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی معاملے کے حلال وحرام ہونے کا مدار درحقیقت وہ معاہدہ ، شرائط اور قواعد ہوتے ہیں  جو فریقین کے درمیان طے پاتے ہیں، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے اداروں کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے کہ: اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا۔ جس طرح سود کا لینا اور دینا  حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس بنیاد پر  اگر کریڈٹ کارڈ لینے والا لی گئی رقم  بالفرض مقررہ مدت میں واپس بھی کردے تو بھی معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے اصولی طور پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال نا جائز ہے۔ صحیح مسلم  میں ہے : ” من اشترط شرطاً لیس فی کتاب اللّٰه فهوباطل و إن کان مائة شرط“۔ اور اگر مقررہ مدت کے بعد سود کے ساتھ رقم واپس کرتا ہے تو اس کے ناجائز ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے؛ اس لیے ادائیگی کی صورت کوئی بھی ہو  اس سےاور اس کے استعمال سے قطع نظر نفس معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ بنوانا ہی ناجائز ہے۔

تفسیر قرطبی میں ہے:

"وقد روي عن عمر بن عبد العزيز [رضي الله عنه] أنه أخذ قوما يشربون الخمر، فقيل له عن أحد الحاضرين: إنه صائم، فحمل عليه الأدب وقرأ هذه الآية (إنكم إذا مثلهم) أي إن الرضا ‌بالمعصية ‌معصية."

(النساء، آیت نمبر 140، جلد: 5، صفحہ: 418، طبع: دار الکتب المصریۃ)

جامع العلوم والحكم میں ہے:

"«لأن الرضا بالخطايا من أقبح المحرمات»."

(ج:2، ص:245، ط: مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502101037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں