بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شعبان 1445ھ 02 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کاحکم


سوال

کریڈٹ کارڈ استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہےکہ کریڈٹ کارڈ  بنوانا اور اس کا استعمال کرنا ناجائز و حرام ہے کیوں کہ کسی چیز کے حلال وحرام ہونے کا مدار اس معاہدہ پر ہوتاہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے اور مذکورہ  کارڈ جاری کرنے والے بینک یا ادارے کارڈ جاری کرتے وقت کارڈ ہولڈر سےیہ معاہدہ کرتے ہیں کہ اگر مقررہ مدت میں  ادائیگی نہیں کی توپھرمتعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر   سود  ادا کرنا ہوگا اور سود کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں اور اسی طرح سودی معاہدہ کرنا بھی حرام   ہے ،لہذا اگر بالفرض  کارڈ ہولڈر  اس میں وقت پر ادائیگی کر بھی دے اور سود ادا نہ کرے تب بھی صرف اس معاہدے کی وجہ سے اس کارڈ کا بنوانا اور استعمال کرنا ناجائز و حرام ہوگا اور اگر وہ وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے سود ادا کردے تو پھر اس صورت میں اس کی حرمت میں کوئی شبہ نہیں ہوگا،لہذا یہ کارڈ بنانا اور استعمال کرنا ہر حال میں ناجائز اور حرام ہے، چاہے وقت پر ادائیگی کرکے سود ادا نہ کرے یا وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں سود ادا کرے۔

تفسیرقرطبیمیں ہے:

"قال الله عزوجل  « إنكم إذا مثلهم » فكل من جلس في مجلس معصية ولم ينكر عليهم يكون معهم في الوزر سواء ........ إن الرضا بالمعصية معصية ."

 (الجامع لأحكام القرآن للقرطبي ، سورة النساء الآية ۱۴۰, ۵/۴۱۸ ط: دارالکتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"[مطلب كل قرض جر نفعا حرام].

(قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي ذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرةوإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخيّ لا بأس به ويأتي تمامه."

(كتاب البيوع،باب المرابحة و التولية، فصل في القرض،166/5،ط: سعید)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"‌‌القاعدة الرابعة عشرة: ما حرم أخذه حرم إعطاؤه ..ويقرب من هذا قاعدة: ما حرم فعله حرم طلبه."

(القاعدة الرابعة عشر،ص:132،ط:دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

"ولا يجوز قرض جر نفعا بأن أقرضه دراهم مكسرة بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاما في مكان بشرط رده في مكان آخر..وفي الخلاصة :القرض بالشرط حرام."

(كتاب البيع،باب المرابحة  والتولية ،فصل في بيان التصرف في المبيع والثمن قبل القبض ،133/6،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144405101420

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں