بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بنک الفلاح کی طرف سے ملنے والے کریڈٹ کارڈ کا حکم


سوال

ہمیں  بینک الفلاح کی طرف سے ایک کارڈ جاری کیا گیا ہے ،جس کارڈ کا نام ہے کریڈٹ کارڈ ،اس کارڈ میں مبلغ 400000 روپے بیلنس دیا جاتاہے۔

اول: اس کارڈ کی فیس ہے مبلغ 13000روپے جواس کارڈ سے مائنس کی جاتی ہے ،اگر ہم اس کارڈ پر مارکیٹ سے تین مہینے کے اندر مبلغ 80000 روپے کی خریداری کرلیں، تو اس شرط پر مبلغ 13000روپے اس کارڈ کی فیس واپس دی جاتی ہے ۔

دوم :اس کارڈ پر ہم مارکیٹ سے مبلغ 400000روپے کی خریداری کرسکتے ہیں ،اس شرط پر کہ ہم 35 دن کے اندر یہ رقم واپس جمع کریں گے، اگر ہم نے مقررہ مدت میں جمع نہیں کی ، تومذکورہ مبلغ بمع 2% ادا کرنا ہوگا ۔

سوم :اس کارڈ پر ہم بینک الفلاح سے موٹرسائیکل فریج، موبائل وغیرہ 6مہینے کی قسط پرحاصل کرسکتے ہیں ،مثلا ایک موٹرسائیکل کی جملہ مبلغ 200000روپے ہے، مذکورہ مبلغ 6 اقساط ادا کرنا ہوگا ،اگر ہم نے مقررہ مدت تک اد نہیں کیں، تو بمع2% جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

نوٹ :ہماری پوری کوشش ہے کہ مقررہ مدت سے پہلے پہلے قیمت ادا کی جائے۔

چہارم :مذکورہ مبلغ 400000روپے سے مبلغ200000روپے نقد حاصل کرسکتے ہیں ،اس نقد رقم بمع2%منافع 35دن کی اندر ادا کرنا ہوگا۔

نوٹ :اس آپشن  کو کبھی بھی استعمال نہیں کریں گے۔

جواب

کسی معاملے کے حلال وحرام ہونے کا مدار درحقیقت وہ معاہدہ ہوتا ہے جو فریقین کے درمیان طے پاتا ہے، کریڈٹ کارڈ لینے والا کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والے بینک اور دیگر اداروں کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں لی جانے والی رقم واپس نہ کر سکا تو ایک متعین شرح کے ساتھ جرمانہ کے نام پر سود ادا کروں گا، جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح اس کا معاہدہ کرنا بھی شرعا ناجائز اور حرام ہے، اس بنیاد پر بالفرض اگر کریڈٹ کارڈ لینے والا  شخص  لی گئی رقم مقررہ مدت میں واپس  بھی کردے، تو بھی معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے اصولی طور پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال نا جائز ہے، اور اگر مقررہ مدت کے بعد سود کے ساتھ رقم واپس کرتا ہے تو اس میں سودی معاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ سودی لین دین کا گناہ بھی ملے گا، اس لیے ادائیگی کی صورت کوئی بھی ہو اس سے قطع نظر نفسِ معاہدہ کے سودی ہونے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ بنوانا یا اس  کارڈ کے ذریعے سے  مراعات حاصل کرناناجائز ہے۔

عمدۃ القاری میں ہے:

"إن آيات الربا التي في آخر سورة البقرة مبينة لأحكامه وذامة لآكليه، فإن قلت: ليس في الحديث شيء يدل على كاتب الربا وشاهده؟ قلت: لما كانا معاونين على الأكل صارا كأنهما قائلان أيضا: إنما البيع مثل الربا، أو كانا راضيين بفعله، ‌والرضى ‌بالحرام ‌حرام."

(كتاب البيوع، باب آكل الربا وشاهده وكاتبه، ج:11، ص:200، ط:دار إحياء التراث العربي)

تفسیرِ قرطبی میں ہے :

"(إنكم إذا مثلهم) أي إن الرضا ‌بالمعصية ‌معصية، ولهذا يؤاخذ الفاعل والراضي بعقوبة المعاصي حتى يهلكوا بأجمعهم."

(تفسیر سورۃ النساء ،‌‌سورة النساء (4): الآيات 140 الى 141،ج:4،ص:418 ،ط:دارالکتب المصریۃ)

وفي الدرر السنية:

"وفي الحديث، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لعن الله آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء۔۔۔۔فدل هذا الحديث: أن السكوت والرضا ‌بالمعصية ‌معصية، وأن من لم ينكر على العاصي، أو المرابي فهو مثله."

(كتاب النصائح،ج:14،ص:58 ،ط:بيروت)

وفي تفسير القرآن إعرابه وبيانه:

"أن الرضا ‌بالمعصية ‌معصية، والسكوت عليها ممّن يستطيع تغييرها معصية أيضا."

(تفسير سورة مريم :19،ج:5،ص:599 ،ط:دارابن كثير )

وفي التفسير المنير  للزحيلي :

"أن الرضا ‌بالمعصية ‌معصية."

(‌‌فقه الحياة أو الأحكام،ج:4،ص:189 ،ط:دارالفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعًا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

(قوله: كلّ قرض جر نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر.

ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطًا صار قرضًا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اهـ ما في المنح ملخصًا وتعقبه الحموي بأن ما كان ربًا لايظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح."

(مطلب كلّ قرض جر نفعًا حرام، ج:5،ص:166،ط:سعید)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"ماحرم فعله حرم  طلبه".

(‌‌القاعدة الرابعة عشرة: ما حرم أخذه حرم إعطاؤه،ص:132 ،ط:دارالكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

"و لايجوز قرض جر نفعاً، بأن أقرضه دراهم مكسرةً بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاماً في مكان بشرط رده في مكان آخر ... و في الخلاصة: القرض بالشرط حرام".

( فصل في بيان التصرف في المبيع و الثمن 6/ 133، ط:دار الكتب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144503100741

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں