بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کورٹ میرج کی شرعی حیثیت


سوال

مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ لوگ کورٹ میں شادی کرتے ہیں جب کے نبی پاک ﷺ نے یہ کہا ہے اور بہت سی حدیث سے پتہ چلا کہ ولی کے بغیر نکا ح نہیں۔وہ پھر کیوں کیا جاتا ہے نکاح ۔دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر نکاح کرنے کے لیے کوئی پروا نہیں کرتے ۔جب طلاق ہو جائے حلالہ پھر کیوں کہا جاتا ہے کہ حلالہ حرام ہے یہ ہے وہ ہے پھر بھی کیا جاتا ہے ۔ میرے ساتھ بھی یہ مسئلہ ہے کورٹ میں شادی کی اب طلاق بھی دی مگرشادی پر نیت یہ تھی کہ مہر 1 روپے بھی نہیں دوں گا جو کہ 10 لاکھ طے ہوا تھا۔اب میں چاہتاہوں کہ ہم پھر سے ایک ہوں ، والدین کی مرضی سے ہم نے طے کر لیا نیا نکاح کیونکہ وہ ہمارا نکاح ہی نہیں تھا پھر طلاق کس طرح ہوئی ؟

جواب

صورت مسئولہ میں شریعتِ مطہرہ نے لڑکی اور لڑکے دونوں اورخصوصاً لڑکی کی حیاء ،اخلاق ،معاشرت کا خیال رکھتے ہوئے ولی کے ذریعے نکاح کا نظام رکھا ہے کہ نکاح ولی کے ذریعے کیا جائے ،یہی شرعاً ،اخلاقاًاور معاشرۃً پسندیدہ طریقہ ہے ،اسی میں دینی ،دنیوی اور معاشرتی فوائد ہیں لیکن اگر ایک نادان لڑکی یا لڑکا جو کہ عاقل بالغ ہیں ان فوائد اور پسندیدہ عمل کو ٹھکراکر خود ہی عدالت جاکر یا عدالت سے ہٹ کر نکاح کریں تو نکاح ہوجائے گا دونوں میاں بیوی بن جائینگے ،لیکن یہ نکاح پسندیدہ طریقہ پر نہیں ہوگا، اس کے بعد طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجائے گی ۔ لہٰذا سائل کا نکا ح منعقد ہوچکا ہے ،اس کے بعد طلاق دیدی توواقع ہوچکی ہے،مہر جو نکاح میں طے ہوا تھا سائل دینے کاپابند ہے ۔ رہا دوبارہ نکاح کا معاملہ تواگر پہلے نکاح کے بعد ازدواجی تعلق یاخلوت نہ ہوئی ہو اور طلاق متفرق طور پر دی ہو مثلاً طلاق دی،وغیرہ تو ایک ہی طلاق سے نکاح ختم ہوا،دوبارہ نئے مہر کے ساتھ نکاح جائز ہے ،آئندہ کے لیے شوہر کو دوطلاقوں کا حق رہےگا۔ اگر نکاح کے بعد ازدواجی تعلق قائم ہوا ہویا خلوت ہوئی ہو اور طلاق ایک یا دو،دی ہوں تو عدت میں رجوع اور رجوع نہ ہونے کی صورت میں عدت کے بعد دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے۔ اگر طلاق تین دی ہوں تو ایسی صورت میں رجوع یا حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ۔


فتوی نمبر : 143101200065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے