بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کی وجہ سے وفات پانے والے کے غسل اور کفن کا حکم


سوال

کرونا کے میت کو حکومت کی پابندیوں کی صورت میں مخصوص کور (بفتح الواو) میں لپیٹ کر سپرد کیا جائے اور کھولنے کی اجازت نہ دی جائے تو ایسی صورت میں وہی کور کفن کے حکم میں ہو جائےگا،یاالگ کفن دینا ضروری ہوگا؟  مگر زیادہ مسئلہ غسل کا ہے ایسی صورت میں غسل دیا جاۓ یا تیمم کرایا جائے،اور چہرہ ہاتھ کے بھی کھولنے کی اجازت نہ ہو تو کیا اسی کور کے اوپر کفن کے کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائے  جیسا کہ شہداء جنگ کے حق میں شریعت نے کفن کا حکم رکھا ہے غسل کا نہیں؟

جواب

ہر مذہب اور شائستہ قانون انسان کو حقوق دیتا ہے،البتہ  اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے  انسان کو جو حقوق عطا کیے ہیں ان کا دائرہ بہت وسیع ہے، چناں  چہ عام طور  پر انسان کی پیدائش سے اس کے حقوق کا آغاز اور موت پر اس کے حقوق ختم سمجھے جاتے ہیں،  مگر دین اسلام میں بچہ جب شکمِ مادر میں ہوتا ہے بلکہ عمل تخلیق سے بھی پہلے اس کے حقوق کا آغاز ہو جاتا ہے اور وفات کے بعد بھی اس کے حقوق کا سلسلہ جاری رہتا ہے ان حقوق میں سے غسل ،کفن ، جنازہ اور دفن بھی ہیں، یہ چاروں حقوق جس طرح شریعت کے عطا کردہ ہیں اسی طرح آئین پاکستان بھی ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے ،مثلًا :

”آئین پاکستان کے تحت شرفِ  انسانی قابل ِ حرمت ہے۔  ( دفعہ ۴۱ )

ہر انسان کو  اپنے مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کی اجازت ہے۔  ( دفعہ ۲۰ )

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول فراہم کرے کہ مسلمان قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی بسر کرسکیں۔  ( دفعہ ۳۱ )

ملکی دستور کے علاوہ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق سے متعلق عالمی منشور بھی ان حقوق کی تائید کرتا ہے ؛  لہذا جن افراد کا انتقال کرونا وائرس کی وجہ سے ہو جائے ان کو بھی دیگر اموات کی طرح  پانی سے سنت طریقے کے مطابق غسل دینا عام مسلمانوں کے ذمہ فرضِ  کفایہ ہے، مسح و تیمم کرانا جائز نہیں ہے ، غسل کے پانی میں جراثیم کش پاک ادویات کو بھی ملایا جاسکتا ہے،  میت کا قریبی رشتہ دار  اسے غسل دینے کا زیادہ حق دار ہے،  اگر کسی وجہ سے میت کے قریبی رشتہ دار یا عام مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ میت کو غسل دیں تو میت کو پانی سے  غسل دینا حکومتِ  وقت کی ذمہ داری ہے،  اگر خدانخواستہ وہ  اس  ذمہ داری کو پورا نہ کرے تو گناہ گار ہوگی،  اگر  طبی  ماہرین ایسے مریض کو غسل دینے کے لیے مخصوص قسم کا لباس پہننے کو ضروری قرار دیتے  ہوں تو احتیاطی تدابیر کے طور پر اس  کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر  عوام الناس اس کا انتظام نہ کر سکتی ہو تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ اشیاء فراہم کرے ۔

میت کو غسل دینے کے بعد کفن دینا فرضِ کفایہ ہے،  اگر میت کو کفن دیے بغیر دفن کردیا تو جن مسلمانوں کو یہ معلوم تھا اور انہوں نے میت کو کفن نہیں پہنایا وہ سب گناہ گار ہوں گے ، لہذاکورونا مرض میں وفات پانے والے افراد کو بھی کفن دینا ضروری  ہوگا،  مرد کا مسنون کفن تین کپڑوں پر اور عورت کا مسنون کفن پانچ کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے ، اگر مرد کو دو کپڑوں ( ازار اور لفافہ ) اور عورت کو تین کپڑوں ( خمار ،ازار اور لفافہ ) میں کفن دیا جائے تب بھی کافی ہے، مسنون کفن کے بعد اگر میت کو احتیاطی تدابیر کے طور پر پاک  پلاسٹک کور وغیرہ میں لپیٹا جائے تو شرعًا کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن غسل دیے بغیر کور کے اوپر کفن  کے کپڑے لپیٹ دینا کافی نہیں ہوگا۔ 

حاشیۃ طحطاوی میں ہے :

"و غسله فرض كفاية بالإجماع كالصلاة عليه و تجهيزه و دفنه حتى لو اجتمع أهل بلدة على ترك ذلك قوتلوا بحر و نهر."

(باب احکام الجنائز ص : ۳۷۲،  ط :المطبعۃ الکبری الامیریۃ )

فتاوی شامی میں ہے :

"(و الصلاة عليه ) صفتها ( فرض كفاية ) بالإجماع فيكفر منكرها لأنه أنكر الإجماع  قنية ( كدفنه) وغسله وتجهيزه فإنها فرض كفاية."

( باب صلاۃ الجنازۃ جلد ۲ / ۲۰۷ / ط : دار الفکر )

فتاوی ہندیۃ میں ہے :

"و يستحب للغاسل أن يكون أقرب الناس إلى الميت فإن لم يعلم الغسل فأهل الأمانة و الورع، كذا في الزاهدي.

يستحب أن يكون الغاسل ثقة يستوفي الغسل ويكتم ما يرى من قبيح ويظهر ما يرى من جميل فإن رأى ما يعجبه من تهلل وجهه وطيب رائحته وأشباه ذلك يستحب له أن يحدث به الناس وإن رأى ما يكره من سواد وجهه ونتن رائحته وانقلاب صورته وتغير أعضائه وغير ذلك لم يجز له أن يحدث به أحدا، كذا في الجوهرة النيرة."

( الفصل الثانی فی غسل المیت جلد ۱ / ۱۵۹ / ط : دار الفکر )

حاشیہ طحطاوی میں ہے :

"قوله: (و التكفين فرض) أي كفاية بالنظر لعامة المسلمين لا لمن خص بلزومه، كما في حاشية المؤلف على الدرر."

( باب احکام الجنائز ص : ۳۷۸ ، ط:المطبعۃ  الکبری الامیریۃ )

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144301200156

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں