بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس کے علاج کے لیے اذان


سوال

کرونا وائرس کی وجہ سے آج کل اذانیں دی جا رہی ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کا شریعت سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی اذان دیتا ہے تو جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کے بارے میں فقہاء احناف سے کوئی روایت منقول نہیں ہے، البتہ شوافع کے ہاں اس طرح کے بعض مواقع پر اذان دینے کی اجازت ہے، اس لیے وبا کے خاتمے کے لیے اذان دینے کی گنجائش ہے، تاہم یہ اذان مساجد میں نہ دی جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے