بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الاول 1443ھ 27 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کرونا ویکسین لگانے کا شرعی حکم


سوال

کرونا سے  حفاظت کے  لیے یہاں دبئی میں دو ملکوں کی ویکسین لگائی جارہی ہے، (چائنا اور امریکا) ، یہ لگوانا جائز ہے ؟ یاد رہے کہ ویکسین کے اجزاء ان ملکوں نے اپنی بزنس پالیسی کی وجہ سے مخفی رکھے ہیں، جب کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ویکسین میں کوئی حرام اشیاء شامل نہیں ، تو پوچھنا یہ ہے کہ اب اس کو لگوانا شرعًا جائز ہے؟ اور یہ بھی بتادیں کہ کتنی مقدار کی شریعت میں گنجائش ہے حرام اجزاء اگر ویکسین میں شامل ہوں؟  یعنی بطور دوا حرام اجزاء والی دوا استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ  موجودہ حالات میں کرونا وائرس کا جو  انجیکشن مرض سے  بچاؤ کے لیے بطور ویکسین  لگایا جارہا  ہے ، چوں کہ  یہ ویکسین  احتیاط کے طور پر مبینہ بیماری سے بچاؤ اور پیشگی علاج کے طور پر  لگائی  جارہی ہے ، یقینی بیماری  کا علاج مقصود نہیں ؛اس لیے اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی ماہر دین دار ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کردے کہ  یہ مضر صحت نہیں اور تجربے سے اس کا مفید ہونا ثابت ہوجائے ، نیز  اس میں کوئی  حرام  یا ناپاک چیز  ملی ہوئی ہونے کا یقین یا ظن غالب نہ ہو تو اس کا لگانا جائز ہے،حرام چیز کی آمیزش کے صرف شک وشبہ کی وجہ سے اس کو حرام نہیں کہا جائے گا ،کوئی شخص شبہ کی بنا پر احتیاط کرے تو دوسری بات ہے۔ اور اگر حرام اجزاء یا ناپاک چیز ملی ہوئی  ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو  تو اس صورت میں پیشگی علاج کے طور پر اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔

البتہ اگر  کرونا کے کسی مریض کو بطورِ  دوا  یہ انجیکشن لگایا جائے تو اس صورت میں اگر اس میں حرام اجزاء کی آمیزش کا یقین یا غالب گمان  نہیں تو استعمال جائز ہے،  لیکن اگر حرام کی آمیزش کا قرائن سے معلوم ہوجائے تو یقینی بیماری کی صورت  میں بھی  اس کا استعمال  اس وقت تک جائز نہیں جب تک  مسلمان  ماہر دین دار طبیب یہ نہ  کہہ دے کہ   اس بیماری کا علاج کسی بھی حلال چیز سے ممکن نہیں ہے،  بلکہ یہی حرام اجزاء ملی دوا ضروری ہے  اور تجربے سے اس کا مفید ہونا ثابت ہوجائے تو مجبوراً بطورِ دوا و علاج بقدرِ ضرورت حرام اجزاء ملی انجیکشن  استعمال کی گنجائش ہوگی۔

" فتاوی شامی" میں ہے:

"الْأَصْلُ فِي الْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ، وَأَنَّ فَرْضَ إضْرَارِهِ لِلْبَعْضِ لَا يَلْزَمُ مِنْهُ تَحْرِيمُهُ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ، فَإِنَّ الْعَسَلَ يَضُرُّ بِأَصْحَابِ الصَّفْرَاءِ الْغَالِبَةِ، وَرُبَّمَا أَمْرَضَهُمْ مَعَ أَنَّهُ شِفَاءٌ بِالنَّصِّ الْقَطْعِيِّ، وَلَيْسَ الِاحْتِيَاطُ فِي الِافْتِرَاءِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِإِثْبَاتِ الْحُرْمَةِ أَوْ الْكَرَاهَةِ اللَّذَيْنِ لَا بُدَّ لَهُمَا مِنْ دَلِيلٍ، بَلْ فِي الْقَوْلِ بِالْإِبَاحَةِ الَّتِي هِيَ الْأَصْلُ".

(6 / 459، کتاب الاشربہ، ط: سعید)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 210):

"اختلف في التداوي بالمحرم، وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل: يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان، وعليه الفتوى."

مطلب في التداوي بالمحرم: (قوله: اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة: يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر. وفي الخانية في معنى قوله عليه الصلاة والسلام: «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم»، كما رواه البخاري: أن ما فيه شفاء لا بأس به كما يحل الخمر للعطشان في الضرورة، وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لورعف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاز للاستشفاء، ... وهذا؛ لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة للعطشان والجائع. اهـ من البحر. وأفاد سيدي عبدالغني أنه لايظهر الاختلاف في كلامهم لاتفاقهم على الجواز للضرورة، واشتراط صاحب النهاية العلم لاينافيه اشتراط من بعده الشفاء ولذا قال والدي في شرح الدرر: إن قوله: لاللتداوي محمول على المظنون وإلا فجوازه باليقيني اتفاق كما صرح به في المصفى. اهـ. أقول: وهو ظاهر موافق لما مر في الاستدلال، لقول الإمام: لكن قد علمت أن قول الأطباء لايحصل به العلم. والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن وهو شائع في كلامهم، تأمل. (قوله: وظاهر المذهب المنع) محمول على المظنون كما علمته (قوله: لكن نقل المصنف إلخ) مفعول نقل قوله: وقيل: يرخص إلخ والاستدراك على إطلاق المنع، وإذا قيد بالمظنون فلا استدراك. ونص ما في الحاوي القدسي: إذا سال الدم من أنف إنسان ولاينقطع حتى يخشى عليه الموت وقد علم أنه لو كتب فاتحة الكتاب أو الإخلاص بذلك الدم على جبهته ينقطع فلايرخص له فيه؛ وقيل: يرخص كما رخص في شرب الخمر للعطشان وأكل الميتة في المخمصة، وهو الفتوى. اهـ (قوله: ولم يعلم دواء آخر) هذا المصرح به في عبارة النهاية كما مر وليس في عبارة الحاوي، إلا أنه يفاد من قوله: كما رخص إلخ؛ لأن حل الخمر والميتة حيث لم يوجد ما يقوم مقامهما أفاده ط. قال: ونقل الحموي أن لحم الخنزير لايجوز التداوي به وإن تعين، والله تعالى أعلم".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200099

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں