بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کرونا وائرس سے پیدا صورتِ حال میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے حکومت سے سودی قرض لینا


سوال

آج کل کرونا وائرس حالات میں حکومت نے اداروں کو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے جو قرضہ سکیم متعارف کرائی ہے، اس قرضے کو ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں ؟

 

جواب

مذکورہ صورت میں جو  قرضہ دیا جارہا ہے،  اگر اس میں سودی شقیں شامل ہیں،  یعنی کہ مثلاً دس لاکھ کا قرضہ لیں اور اس سے زائد ادا کرنا لازم ہو تو اس قرض کا لینا جائز نہیں۔ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے کہیں سے بلا سود قرض کی سبیل تلاش کریں۔ حکومت کا عوامی ضروریات و مسائل حل کرنے کے لیے سودی معاملہ اللہ  تعالیٰ کی مزید ناراضی کو دعوت دینا ہے، حکومت کو  چاہیے کہ بلا سود قرض فراہم کرے، یا شرعی حدود کا لحاظ رکھ کر  مضاربہ یا مشارکہ کے طریقے سے عوام کو رقم دینی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201458

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے