بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کنڈوم کے استعمال کا حکم


سوال

کیا کنڈوم استعمال کرنا جائز ہے  یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو  قرآن و سنّت کی روشنی میں دلائل  دیجیے اور اگر ناجائز ہے تو  قرآن و سنّت کی روشنی میں وضاحت کیجیے!

جواب

واضح رہے کہ کنڈوم کے استعمال کا مقصد مرد کے مادہ منویہ کو رحم میں پہنچنے سے بچانا ہوتا ہے، جو کہ عزل ( یعنی صحبت کے دوران منی کا اخراج بیوی کی شرم گاہ سے باہر کرنا)  کی ہی ایک جدید صورت ہے، اور عزل بنصِ  حدیث جائز ہے،  لہذا صورتِ  مسئولہ میں کنڈوم کا استعمال شرعًا ممنوع نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ کسی ضرورت کے بغیر اس کا استعمال نہ کیا جائے۔  نیز اس کے جواز کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اس سے مقصود اولاد کی کثرت کی وجہ سے معاشی تنگی کا خوف نہ ہو۔

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

کثرتِ اولاد کی ترغیب احادیث میں ملتی ہے

صحیح البخاری میں ہے:

"5207 - حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، عن عطاء، عن جابر، قال: «كنا نعزل على عهد النبي صلى الله عليه وسلم»."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کیا کرتے تھے۔

"5208 - حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو: أخبرني عطاء، سمع جابرا رضي الله عنه، قال: «كنا نعزل والقرآن ينزل»."

حضرت جابر کا فرمان ہے کہ ہم عزل کیا کرتے تھے ، حال آں کہ قرآن نازل ہو رہا تھا۔ ( یعنی اگر عزل کرنا ممنوع ہوتا تو اللہ رب العزت قرآن مجید میں ممانعت نازل فرمادیتے۔)

"5209 - وعن عمرو، عن عطاء، عن جابر، قال: «كنا نعزل على عهد النبي صلى الله عليه وسلم والقرآن ينزل» ( كتاب النكاح، باب العزل، 7 / 33،ط: دار طوق النجاة)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں  عزل کیا کرتے تھے، حالانکہ قرآن مجید نازل ہورہا تھا۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(وَيُعْزَلُ عَنْ الْحُرَّةِ) وَكَذَا الْمُكَاتَبَةُ، نَهْرٌ بَحْثًا (بِإِذْنِهَا) لَكِنْ فِي الْخَانِيَّةِ: أَنَّهُ يُبَاحُ فِي زَمَانِنَا لِفَسَادِهِ قَالَ الْكَمَالُ: فَلْيُعْتَبَرْ عُذْرًا مُسْقِطًا لِإِذْنِهَا".

(الشامیة، كتاب النكاح، بَابُ نِكَاحِ الرَّقِيقِ، ٣ / ١٧٥ - ١٧٦)

فتاوی شامی میں ہے:

’’(قوله: قال الكمال) عبارته: وفي الفتاوي: إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها؛ لفساد الزمان، فيعتبر مثله من الأعذار مسقطاً لإذنها‘‘.

( باب نكاح الرقيق: مطلب في حكم العزل ٣/ ١٧٦، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212201842

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں