بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کمپنی ریٹ کے مطابق اشیاء پر نفع لینا


سوال

 زید ایک دکاندار ہے اور زید کو مثلا ایک چیز300روپے میں ملتی ہے جبکہ کمپنی اس چیز پر قیمت فروخت 400 لکھتی ہے،زید زائد منافع نہیں لینا چاہتا، وہ یہ چیز مارکیٹ ریٹ سے کم پر مثلا 350پر جائز منافع رکھ کر فروخت کرتا ہے ۔ بسا اوقات کوئی گاہک قیمت کم کرواتا ہے جس کی وجہ سے زید کو یا تو منافع ہی نہیں ہوتا یا نقصان ہو جاتا ہے، اب زید اگر ایسے گاہک کو دیگر گاہگوں سے زائد رقم بتائے تاکہ یہ کمی کروائیں گے تو مجھے نقصان نہ ہو ،لیکن وہ رقم کمپنی کی بتائی گئی رقم کے برابر 400 یا اس سے کم 380 ہواور  باقی گاہگوں سے زیادہ ہو ،اب اگر وہ گاہگ دکاندار کی مانگی گئی پوری رقم ادا کر دے تو اس زائد رقم کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں زید کی دکان پر موجود اشیاء زید کی ملکیت ہیں ،زید کاان  اشیاء پر عرف اور کمپنی کے ریٹ کے مطابق نفع لینا شرعا جائز ہے،لہذا اگر زید  کمپنی کے ریٹ کے مطابق کوئی چیز 400   کی ہی خریدار  کو بتائے اور خریدار اسی رقم میں وہ چیز خریدنے پر راضی ہوجائے  تو زید کے لیے 400 لینا جائز اور حلال ہے ۔

باقی اگر کوئی دکاندار اپنی فروخت شدہ چیز کا حد سے زیادہ نفع لے تو وہ نفع اس کے لیے حلال تو ہے ،لیکن لوگوں کی طاقت اور وسعت سے بڑھ کر نفع لینا اخلاق اور مروت کے خلاف ہے ۔

وفي سنن أبي داود:

"عن أنس: قال الناس: يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - غلا السعر فسعر لنا، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إن الله هو ‌المسعر، القابض الباسط الرازق، وإني لأرجو أن ألقى الله عز وجل وليس أحد منكم يطالبني بمظلمة في دم ولا مال".

 (كتاب البيوع، باب في التسعير، 5/ 322، الناشر: دار الرسالة العالمية)

وفيه أيضا:

"خطبنا علي بن أبي طالب -أو قال: قال علي، قال ابن عيسى: هكذا حدثنا هشيم- قال: سيأتي على الناس زمان عضوض، يعض الموسر على ما في يديه، ولم يؤمر بذلك، قال الله تعالى: {ولا تنسوا الفضل بينكم} [البقرة: 238]، ويبايع المضطرون، وقد نهى النبي - صلى الله عليه وسلم - عن بيع المضطر، وبيع الغرر، وبيع الثمرة قبل أن تدرك."

(كتاب البيوع، باب في بيع المضطر، 5/ 263، الناشر: دار الرسالة العالمية)

وفي درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:

"(المادة 153) ‌الثمن المسمى هو ‌الثمن الذي يسميه ويعينه العاقدان وقت البيع بالتراضي سواء كان مطابقا للقيمة الحقيقية أو ناقصا عنها أو زائدا عليها.

وعلى ذلك كما أن ‌الثمن المسمى قد يكون بقيمة المبيع الحقيقية يكون أيضا أزيد من القيمة الحقيقية أو أنقص."

 (المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، 1/ 124، الناشر: دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408101335

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں