بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

کمپنی سے قسطوں پر گاڑی خریدنا


سوال

کیا کسی کمپنی سے قسط پہ گاڑی خریدنا جائز ہے کیا اس میں سودکے متعلق کچھ بتائیں لینی چاہیے کہ نہیں؟

جواب

 واضح رہےکہ شرعی نقطہ نظرسےہرشخص کو اپنی مملوکہ چیز کواصل قیمت میں کمی زیادتی کےساتھ نقد،اور ادھاردنوں طرح  فروخت کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اورجس طرح ادھار پرسامان  فروخت کرنے والا اپنے سامان کی قیمت یک مشت وصول کرسکتا ہے ، اسی  طرح اس کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس رقم کو قسط وار وصول کرے،  اسے اصطلاح میںبیع بالتقسیط یعنی قسطوں پر خریدوفروخت  کہتے ہیں۔

قسطوں پر خرید وفروخت کےلیےان شرائط کا لحاظ رکھنابھی ضروری ہےکہ قسط کی رقم متعین ہو، مدت متعین ہو، معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار، اور عقد کے وقت مجموعی قیمت مقرر ہو، اور ایک شرط یہ بھی  ہے کہ کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس  میں اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے، اور جلد ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی عقد میں مشروط نہ ہو۔ ان شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خریدوفروخت کرنا جائز ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں مذکورہ بالاشرائط کےساتھ کسی کمپنی سے  قسطوں پے گاڑی خریدناجائزہے ۔

شرح المجلۃ میں ہے :

"(الفصل الثانی ) بیان المسائل المتعلقة بالبیع بالنسئة والتاجیل:

البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطه صحیحیلزم أن تکون المدۃمعلومة في البیع بالتأجیل والتقسیط."

 (شرح المجلة  رقم المادۃ:۲۴۵/۲۴٦ ۲/۱٦٦ ط:رشيديه)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وکذا إذا قال: بعتک هذا العبد بألف درهم إلی سنة أو بألف وخمسة إلی سنتین؛ لأن الثمن مجهول.......... فإذا علم ورضی به جاز البیع؛ لأن المانع من الجواز هو الجهالة عند العقد، وقد زالت في المجلس وله حکم حالة العقد، فصار کأنه معلوم عند العقد، وإن لم یعلم به حتی إذا افترقا تقرر الفساد." 

(بدائع الصنائع / في جهالة الثمن۵/۱۵۸ط: دارالكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولا يصح عن دراهم على دنانير مؤجلة ) لعدم الجنس فكان صرفا فلم يجز نسيئة ( أو عن ألف مؤجل على نصفه حالا ) إلا في صلح المولى مكاتبه فيجوز زيلعي ( أو عن ألف سود على نصفه بيضا ) والأصل أن الإحسان إن وجد من الدائن فإسقاط وإن منهما فمعاوضة.

و في الرد: قوله ( فمعاوضة ) أي ويجري فيه حكمها فإن تحقق الربا أو شبهته فسدت وإلا صحت ط قال ط بأن صالح على شيء هو أدون من حقه قدرا أو وصفا أو وقتا وإن منهما أي من الدائن بأن دخل في الصلح ما لا يستحقه الدائن من وصف كالبيض بدل السود أو ما هو في معنى الوصف كتعجيل الؤجل أو عن جنس بخلاف جنسه."

( رد المحتار علی الدرالمختار ،كتاب الصلح ، فصل في دعوى الدين ۵/ ٦۴٠ ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں