بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کمپنی میں پینٹ شرٹ پہننا


سوال

 میرا سوال یہ ہے کہ کمپنی میں سب پینٹ شرٹ پہنتے ہے اور میں ایک حافظ عالم ہوں اور میرا پینٹ شرٹ پہننے  کو دل بھی نہیں ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ پینٹ شرٹ نیک لوگوں کا لباس نہیں ہے، اس لئے جہاں تک ممکن ہو اس سے بچنا چاہئے، تاکہ فاسق فاجر اور غیر مسلموں سے مشابہت نہ ہو، تاہم  اگر کسی کو ملازمت کی مجبوری کی وجہ سے اس کو پہننا پڑے تو  دل میں اس کو بُرا سمجھتے ہوئے پہنے، جب ڈیوٹی ختم ہوجائے تو اسلامی لباس پہن لے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: لايصف ما تحته) بأن لايرى منه لون البشرة احترازاً عن الرقيق ونحو الزجاج (قوله: ولايضر التصاقه) أي بالألية مثلاً، (وقوله: وتشكله) من عطف المسبب على السبب. وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظًا لايرى منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئياً فينبغي أن لايمنع جواز الصلاة؛ لحصول الستر. اهـ. قال ط: وانظر هل يحرم النظر إلى ذلك المتشكل مطلقاً أو حيث وجدت الشهوة؟ اهـ. قلت: سنتكلم على ذلك في كتاب الحظر، والذي يظهر من كلامهم هناك هو الأول".

(كتاب الصلوة ،باب شروط الصلاة، مطلب فى ستر العورة،(1/410)، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144311100083

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں