بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

آن لائن کمپنی کے ایڈ دیکھ کر پیسے کمانا


سوال

 میں ایک آن لائن کمپنی میں کاروبار کرنا چاہتا ہوں،  وہ کمپنی مجھ سے کچھ رقم لے گی، اس کے بعد ہم کمپنی کے کچھ ایڈ دیکھتے  ہیں،  ایڈ دیکھنے کے بدلے میں وہ کمپنی ہم کو معاوضہ دیتی ہے، مثلا ً  50000ہزار کے بدلے ہم کو  ہر مہینے 10500 روپے دیتی ہے،  اگر ہم ایڈ نہ دیکھیں  تو کمپنی ہم کو کچھ نہیں دیتی ، کیا یہ کاروبار درست ہے؟

جواب

آپ اگر متعلقہ کمپنی کی تفصیل  بتاکر جواب معلوم کرتے تھے تو اس صورت میں اس کمپنی کے کام کا شرعی حکم حتمی طور پر بتایا جاسکتا ہے، تاہم جس قدر آپ نے سوال میں صورت لکھی ہے اس کے مطابق  مذکورہ  طریقہ سے پیسے کمانا جائز نہیں ہے، اس میں درج ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:

1۔۔   اس میں ایسے لوگ  پراڈکٹ کے اشتہارات کو دیکھتے ہیں جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، بائع کو ایسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے والے کے ساتھ  ایک قسم کا دھوکا ہے۔

2۔ اس میں کلک کرنے والا ایک ہی شخص کئی بار کلک کرتا ہے،  جس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اشتہار دیکھنے والے بہت سے لوگ ہیں، جس سے اشتہار دینے والوں کی ریٹنگ بڑھتی ہے، حال آں کہ یہ بات بھی خلافِ  واقعہ اور  دھوکا دہی ہے۔

3۔۔ نیز ایڈ پر کلک ایسی چیز نہیں ہے جس منفعت مقصودہ ہے، اس لیے یہ اجارہ صحیح نہیں ہے۔

4۔۔  اگر ان اشتہارات میں جان دار کی تصاویر یا خواتین کے تصاویر بھی ہوں تو یہ اس پر مستزاد قباحت ہے؛ کیوں کہ  جس طرح جان دار کی تصویر بنانا شرعاً منع ہے،  اسی طرح اُس کی ترویج اور تشہیر بھی ممنوع ہے، اسی طرح بہت سے اشتہارات دیگر غیر شرعی امور پر مشتمل ہوتے ہیں؛ لہذا اگر مذکورہ طریقہ کار میں اشتہارات کی تشہیر ہوتی ہے تو  یہ  گناہ کے کام میں معاونت ہے؛ اس لیے  ایسی کمائی جائز نہ ہوگی۔

5۔۔  نیز    50000ہزار   روپے انویسمنٹ کرکے متعینہ طور پر ایک مہینہ میں 10500روپے کا نفع مل رہا ہے،  جب کہ شرعاً اس طرح کی انویسمنٹ ناجائز ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں