بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 رمضان 1445ھ 29 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کے ذریعے سے بینک سے گاڑی لینا


سوال

عرض یہ ہے کہ  میں ایک کمپنی میں گزشتہ آٹھ سال سے کام کر رہا ہوں۔ ابھی ہماری کمپنی نے تمام ملازمت کرنے والے افراد کے لیے ایک پالیسی متعارف کروائی ہے، جس کے تحت ہمیں گاڑی دی جا رہی ہے کچھ شرائط کے ساتھ ۔شرائط یہ ہیں کہ گاڑی کی 20 فیصد رقم ہم نے ادا کرنی ہے اور اسی فیصد رقم کمپنی ادا کرے گی اور کمپنی یہ گاڑی ہمیں بینک سے پانچ سال کی قسطوں پر لے کر دے گی ۔ اس کے لیے ملازمت کے پانچ سال گزارنے ہوں گے ، اگر ہم اس سے پہلے یہ  ملازمت چھوڑ دیتے ہیں تو کمپنی ہماری دی ہوئی بیس فیصد رقم بھی اپنے پاس رکھ لے گی اور گاڑی بھی۔ مسئلہ بتا دیں کیوں کہ کمپنی ہمیں یہ گاڑی پیچھے سے لیزنگ پر لے کر دے رہی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کی کمپنی چونکہ گاڑی بینک سے لے رہی ہے، اور  کسی بھی بینک سے قسطوں پر گاڑی لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ روایتی سودی بینکوں سے قسطوں پر گاڑی لینے کا معاملہ تو بالکل صاف طور سے سود پر مشتمل ہوتا ہے، اور سود کا معاملہ کرنا (یا اس معاملہ کا حصہ بننا بھی)حرام ہے۔جبکہ  مروجہ اسلامی بینکوں کا قسطوں پر گاڑی دینے کا معاملہ بھی مکمل شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے، بلکہ اس معاملہ میں متعدد شرعی احکام کی خلاف ورزی لازم آتی ہے ، مثلا مروجہ اسلامی بینکوں  سے قسطوں پر گاڑی خریدتے وقت دو عقد بیک وقت ہوتے ہیں ،ایک عقد بیع  کا ہوتا ہے جس کی بنا پر قسطوں کی شکل میں ادائیگی خریدار پر واجب ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ ہی (اجارہ) کرائے کا معاہدہ بھی ہوتا ہے، جس کی بنا پر ہر ماہ کرائے کی مد میں بینک خریدار سے کرایہ بھی وصول کرتا ہے، اور یہ  دونوں عقد صورۃ یا حکما ایک ساتھ ہی کیے جاتے ہیں جو کہ  ناجائز ہیں اور سائل نے سوال میں  معاملہ کی جو صورت بیان کی ہے اس کے مطابق  سائل بھی (بینک سے خریدی جانے والی) اس گاڑی میں 20 فیصد کا شریک ہے، لہٰذا سائل (اور کمپنی کے دیگر ملازمین)  کے لیے شرعاًاس معاملہ میں شریک ہونا درست نہیں۔

نیز (اس معاملہ کے عدم جواز سے قطع نظر) اس معاملہ میں کمپنی کی یہ شرط لگانا کہ اگر ملازم نے گاڑی بک کرانے کے بعد ملازمت چھوڑدی تو کمپنی اس کو اس کی جمع کردہ (20 فیصد)رقم واپس نہیں کرے گی، یہ شرط لگانا بھی درست نہیں۔

وفي سنن الترمذي  لمحمد بن عيسى بن سَوْرة الترمذي:

"عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة». وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح»، والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولايفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما ... وهذا يفارق عن بيع بغير ثمن معلوم، ولايدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته."

 (أبواب البيوع، باب ماجاء في النهي عن بیعتین في بیعة، ج:1،ص:364،رقم: 1193،ط: رحمانیہ)

و في المبسو ط للسرخسي:

"وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال: إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع، وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية، وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد ... الخ" 

(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، ج:۱۳، ص:۸، ط:دارالمعرفة)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں