بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کا کام کرتے ہوئے ملازم کا کمیشن لینا


سوال

 ایک آدمی کسی کمپنی میں ماہانہ تنخواہ پر کام کرتا ہے، کمپنی کسی پراجیکٹ کے لیے اس آدمی کو رینٹ اے کار کے ریٹ معلوم کرنے کا کہتی ہے، کیا اس آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ اصلی ریٹ کے ساتھ اپنا بھی کچھ کمیشن رکھ کے کمپنی کو بتائیں ؟ مہربانی فرما کر تفصیلی جواب سے آگاہ کرے،نیز کمیشن کس صورت میں جائز ہے؟ اس سے بھی آگاہ کریں۔ 

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ آدمی کمپنی کا ملازم ہے اور کمپنی سے اس کی تنخواہ بھی متعین ہے ،اور ریٹ اے کار کا ریٹ معلوم کرنے میں کمپنی کی طرف سے وکیل ہے ،اور وکیل امین (امانت دار) ہوتا ہے جس کے ذمے تمام معاملات کی آگاہی اپنے مؤکل  کو دینا ہوتی ہے،نیز   ملازم اپنے عمل کا معاوضہ اپنی اجرت کی صورت میں بھی لیتا ہے؛لہذا کمپنی کے لیے کام کرتے ہوئے  جتنی رقم میں بات طے ہوجائے اتنی ہی رقم لینا کمپنی سے جائز ہے ،اس کے علاوہ اپنے لیے کمیشن رکھنا شرعاً جائز نہیں ۔

درر الحکام میں ہے :

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل۔۔۔۔لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".

(الکتاب الحادی عشر الوکالۃ،ج:3،ص:573،دارالجیل)

 البحر المحیط  میں ہے :

"وقال ابن عطية:هذه آية نهي عن الرشا وأخذ الأموال على ترك ما يجب على الآخذ فعله، أو فعل ‌ما ‌يجب ‌عليه ‌تركه."

(ج:6،ص:591،دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502100305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں