بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کمیشن پر جائیداد کی خرید و فروخت


سوال

میں کمیشن پرجائے داد کی خرید و فروخت کاکام کرتا ہوں، شرعی حیثیت سے یہ کام جائز ہے؟

جواب

پراپرٹی ڈیلنگ  (مکانات وغیرہ  کی خریدوفروخت میں ایجنٹ اور بروکری )کا کام کرنا جائز ہے اور بروکر کے لیے بروکری کی اجرت لینا جائز ہے، بشرطیکہ جس کام پر کمیشن لیا جا رہا ہے وہ کام فی نفسہ جائز ہو، کام بھی متعین ہو، کمیشن ایجنٹ واقعی کوئی معتد بہ عمل انجام دے اور کمیشن جانبین کی رضامندی سے بلاکسی ابہام کے متعین ہو اور ایجنٹ کسی معاملے میں خودخریدار یا فروخت کنندہ ہو تو  بروکری نہ لے۔  نیز طرفین کی جانب سے جو معاوضہ مقرر کر لیا جائے وہ درست ہے، خواہ وہ مارکیٹ ریٹ  کے مطابق ہو  یا کچھ اور ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 63):

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجاً ينسج له ثياباً في كل سنة". 

فقط وا للہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201485

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں