بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 رجب 1442ھ 09 مارچ 2021 ء

دارالافتاء

 

کمیشن پر کام کرنا


سوال

ایک کمپنی 50 ریال فی گھنٹہ کے حساب سے گاڑیاں رینٹ پر لیتی ہے، اس کمپنی میں میں نے اپنی گاڑی بھی لگا لی ہے، اب اگر دوسرے لوگ مجھے گاڑی لگانے کا کہیں، تو میں نے ان کو صاف بتادیا کہ کمپنی مجھے 50 ریال میں گاڑی بھرتی کرتی ہے۔ جب کہ میں آپ کو 40 ریال فی گھنٹہ کے حساب سے دوں گا۔ یہ دس ریال میرا کمیشن ہوگا۔ اگر مجھے کمیشن نہیں دیتے تو جاکر خود بھرتی کرلو۔ یاد رہے کہ میں کمپنی کا ملازم نہیں ہوں!

جواب

واضح رہے کہ  دلالی (بروکری) لینا شرعاً اس وقت جائز ہوتا ہے جب کہ اس کا عمل پایا جائے، مثلاً گاڑی وغیرہ رینٹ پر دینے میں اپنا کردار ادا کرے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب گاڑی کمپنی میں لگوانے میں آپ بنفسِ  نفیس شریک ہوں اس میں کمیشن متعین کرکے لینا آپ کے لیے جائز ہوگا، بصورتِ  دیگر (مثلاً باقاعدہ عمل نہ پایا جائے) کمیشن کے مطالبہ کا آپ کو حق نہ ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’قَالَ فِي التتارخانية: وَفِي الدَّلَّالِ وَالسِّمْسَارِ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ، وَمَا تَوَاضَعُوا عَلَيْهِ ... وَفِي الْحَاوِي: سُئِلَ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أُجْرَةِالسِّمْسَارِ؟ فَقَالَ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ فَاسِدًا؛ لِكَثْرَةِ التَّعَامُلِ، وَكَثِيرٌ مِنْ هَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَجَوَّزُوهُ لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهِ...‘‘ الخ

(مَطْلَبٌ فِي أُجْرَةِ الدَّلَّالِ ، ٦/ ٦٣، ط: سعيد)

وفیه أیضاً: ’’وَأَمَّا أُجْرَةُ السِّمْسَارِ وَالدَّلَّالِ فَقَالَ الشَّارِحُ الزَّيْلَعِيُّ: إنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً فِي الْعَقْدِ تُضَمُّ‘‘. (ه/ ١٣٦)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201112

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں