بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سگریٹ نوشی کرنے والے کی امامت کا حکم


سوال

اگر کبھی سگریٹ نوشی کرنے والا امامت کرے تو اس کا امامت کرنا کیسا ہے؟

جواب

سگریٹ نوشی فی نفسہ مباح ہے، تاہم کھانے پینے کی طرح مباح نہیں ہے، بلکہ غیر صلحاء کا معمول  اور منہ میں بدبو کا باعث ہے؛ اس لیے بعض فقہاء نے اسے مکروہ (تنزیہی) کہاہے، لہذا محض سگریٹ پینے کی بنیاد پر کسی کو فاسق نہیں کہا جا سکتا، لہذا ایسے شخص کی امامت بھی درست ہو گی، البتہ نماز سے پہلے منہ سے بدبو زائل کرلے، ورنہ فرشتوں اور نمازیوں کی ایذا کی وجہ سے مکروہ ہوگا۔

تفسير السراج المنير - (1 / 41):

"وأمّا الفاسق في الشرع فهو الخارج عن أمر الله بارتكاب كبيرة أو إصرار على صغيرة ولم تغلب طاعاته على معاصيه ولايخرجه ذلك عن الإيمان إلا إذا اعتقد حل المعصية سواء أكانت كبيرة أم صغيرة".

مفردات القرآن ـ للراغب ـ نسخة محققة - (1 / 636):

"فسق:

فَسَقَ فلان : خرج عن حجر الشّرع ، وذلك من قولهم : فَسَقَ الرُّطَبُ ، إذا خرج عن قشره «3» ، وهو أعمّ من الكفر. والفِسْقُ يقع بالقليل من الذّنوب وبالكثير ، لكن تعورف فيما كان كثيرا ، وأكثر ما يقال الفَاسِقُ لمن التزم حكم الشّرع وأقرّ به ، ثمّ أخلّ بجميع أحكامه أو ببعضه ، وإذا قيل للكافر الأصليّ : فَاسِقٌ ، فلأنّه أخلّ بحكم ما ألزمه العقل واقتضته الفطرة ، قال اللّه تعالى : فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144201200846

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں