بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر سیگریٹ کے کارٹن بیرون ملک سے منگوانا


سوال

ایک بندہ سیگریٹ کے کارٹن درآمد کرے (صرف برانڈ سیگریٹ چرس وغیرہ نہیں) اور اس در آمد کا حکومت کو ٹیکس بھی نہ دے، البتہ سرکاری ملازمین سے بات چیت کر کے انہیں کے ساتھ کوئی مناسب رقم طے کر لے؛ تاکہ سکون سے درآمدات ہو سکیں۔ آیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر اس میں شرعاً کوئی خرابی تو درست طریقہ کی طرف رہنمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ  مفادِ عامہ کی خاطر اگر حکومتی سطح پر جائز اشیاء کو ملک میں لانا ممنوع ہو تو اس سے گریز کرناچاہیے؛ کیوں کہ قانون شکنی کی صورت میں  مال اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، تاہم ایسا کرلینے کے بعد جو نفع حاصل ہو، وہ حلال ہے۔

صورتِ مسئولہ میں مال اور عزت کو خطرہ میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ  سیگریٹ کے کارٹن کی در آمد نہ کی جائے، البتہ اگر اس کی در آمد کرلی جائے تو اس کا نفع فی نفسہ حلال ہوگا۔ تاہم اس کاروبار کے لیے ناجائز ذرائع مثلاً رشوت دینا، جھوٹ بولنا، شرعاً جائز نہیں ہے؛ لہذا سرکاری ملازمین کو رشوت دے کر کام کرنا جائز نہیں ہوگا، نیز اس کا گناہ مستقل رہے گا، اور جھوٹ بول کر یا رشوت اور دھوکا دے کر جو آمدن حاصل ہوگی (گو فی نفسہ وہ اشیاء حلال ہوں) اس میں کسی درجے کراہت آجائے گی، ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بازار میں تاجروں سے خطاب کرکے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! بلاشبہ خرید و فروخت میں لغو باتیں اور (خلافِ واقع) قسمیں بھی شامل ہوجاتی ہیں، لہٰذا اسے صدقے سے ملا لیا کرو۔ یعنی خلافِ واقع قسم کھانے یا پروڈکٹ کے حقیقت سے زیادہ اوصاف وغیرہ بیان کرکے جو جھوٹ لازم آتاہے، اس سے آمدن میں اتنی کراہت آجاتی ہے جتنا جھوٹ وغیرہ کے ذریعے کمایا، لہٰذا صدقے دے کر آمدن کی پاکی کا انتظام کرو، اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو ٹھنڈا کرو۔

معارف القرآن میں تفسیر بحر محیط کے حوالہ سے درج ہے:

جس کام کا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا یا جس کام کا چھوڑنا اس کے ذمہ لازم ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا رشوت ہے۔ (ج۵ / ص۳۹۷)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں