بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

چرچ میں عید کی نماز کا اہتمام کرنا


سوال

یہاں جرمنی میں مساجد بہت بڑی نہیں ہیں، عام دنوں میں 70 سے 80 نمازی آجاتے ہیں، لیکن آج کل موجودہ پابندیوں کی وجہ سے 30 سے 35 نمازی ہی آپاتے ہیں۔ اب عید الفطر کی نماز میں بھی اس سے زیادہ نمازی نماز نہیں پڑھ سکتے، جب کہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے، کیا اس صورتِ حال میں مسجد میں عید کی ایک سے زیادہ جماعتیں کروا سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو ہر دو جماعتوں کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے؟ کیا ایک جماعت کے فوراً بعد دوسری جماعت کرواسکتے ہیں؟

دوسری بات یہ کہ کچھ مسلمانوں نے حکومت سے بات کرکے ایک چرچ میں عید الفطر کی نماز کی اجازت لی ہے جس میں 100 ، 100 لوگوں کی دو جماعتیں ہوں گی۔ کیا اس طرح چرچ میں عید کی نماز پڑھنا درست ہے؟

تیسری بات یہ کہ موجودہ حالات میں اگر کچھ مسلمان اس مشقت سے بچنے کے لیے اپنے گھر میں ہی چار پانچ لوگوں کی عید الفطر کی جماعت کروالیں، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اور اس کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

جواب

1۔ایک مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد اسی مقام پر دوسری جماعت کے لیے عید کی نماز ادا کرنا مکروہ ہے، لہذا صورتِ مسئولہ  میں عید کے متعدد اجتماعات مختلف مقامات پر رکھ  لیے جائیں، خواہ پارکس یا کمیونیٹی ہال وغیرہ میں اہتمام کیا جائے، اور اوقات پہلے سے مشتہر کردیے جائیں، تاکہ سب لوگ با سہولت عید کی نماز ادا کر سکیں۔

 

2- واضح رہے کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں چرچ میں عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  میں ہے:

"(قَوْلُهُ: وَلَمْ تُقْضَ إنْ فَاتَتْ مَعَ الْإِمَامِ) ؛ لِأَنَّ الصَّلَاةَ بِهَذِهِ الصِّفَةِ لَمْ تُعْرَفْ قُرْبَةً إلَّا بِشَرَائِطَ لَا تَتِمُّ بِالْمُنْفَرِدِ فَمُرَادُهُ نَفْيُ صَلَاتِهَا وَحْدَهُ وَإِلَّا فَإِذَا فَاتَتْ مَعَ إمَامٍ وَأَمْكَنَهُ أَنْ يَذْهَبَ إلَى إمَامٍ آخَرَ فَإِنَّهُ يَذْهَبُ إلَيْهِ؛ لِأَنَّهُ يَجُوزُ تَعْدَادُهَا فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ فِي مَوْضِعَيْنِ وَأَكْثَرَ اتِّفَاقًا". ( كتاب الصلاة، بَابُ الْعِيدَيْنِ، ٢ / ١٧٥، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"مَطْلَبُ تُكْرَهُ الصَّلَاةُ فِي الْكَنِيسَةِ

[تَنْبِيهٌ] يُؤْخَذُ مِنْ التَّعْلِيلِ بِأَنَّهُ مَحَلُّ الشَّيَاطِينِ كَرَاهَةُ الصَّلَاةِ فِي مَعَابِدِ الْكُفَّارِ؛ لِأَنَّهَا مَأْوَى الشَّيَاطِينِ كَمَا صَرَّحَ بِهِ الشَّافِعِيَّةُ. وَيُؤْخَذُ مِمَّا ذَكَرُوهُ عِنْدَنَا، فَفِي الْبَحْرِ مِنْ كِتَابِ الدَّعْوَى عِنْدَ قَوْلِ الْكَنْزِ: وَلَا يَحْلِفُونَ فِي بَيْتِ عِبَادَاتِهِمْ. وَفِي التَّتَارْخَانِيَّة يُكْرَهُ لِلْمُسْلِمِ الدُّخُولُ فِي الْبِيعَةِ وَالْكَنِيسَةِ، وَإِنَّمَا يُكْرَهُ مِنْ حَيْثُ إنَّهُ مَجْمَعُ الشَّيَاطِينِ لَا مِنْ حَيْثُ إنَّهُ لَيْسَ لَهُ حَقُّ الدُّخُولِ اهـ قَالَ فِي الْبَحْرِ: وَالظَّاهِرُ أَنَّهَا تَحْرِيمِيَّةٌ؛ لِأَنَّهَا الْمُرَادَةُ عِنْدَ إطْلَاقِهِمْ، وَقَدْ أَفْتَيْت بِتَعْزِيرِ مُسْلِمٍ لَازَمَ الْكَنِيسَةَ مَعَ الْيَهُودِ اهـ فَإِذَا حَرُمَ الدُّخُولُ فَالصَّلَاةُ أَوْلَى، وَبِهِ ظَهَرَ جَهْلُ مَنْ يَدْخُلُهَا لِأَجْلِ الصَّلَاةِ فِيهَا". ( كتاب الصلاة، ١ / ٣٨٠، ط: دار الفكر)۔

3۔  واضح رہے کہ عید کی نماز دین کے شعائر میں سے بنیادی شعار ہے،(1) اورعید کی نماز سے مقصود مسلمانوں کی شان و شوکت اور قوت کا اظہار ہے، یہی وجہ ہے کہ عید کی نماز عید گاہ میں پڑھنا مسنون ہے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان ایک جماعت میں شریک ہوسکیں۔(2)

صورتِ مسئولہ میں شہر، فنائے شہر اور بڑا گاؤں جہاں جمعہ قائم کرنے کی شرائط پائی جاتی ہیں وہاں عید کی نماز پڑھنا واجب ہے، تاہم جمعہ اور عید کی نماز کی شرائط میں فرق یہ ہے کہ جمعہ کے درست ہونے کے لیے خطبہ شرط ہے ، جب کہ عید کی نماز کے لیے خطبہ شرط نہیں، سنت ہے،(3) اسی طرح عید کی نماز کے لیے اذنِ عام کا ہونا بھی شرط نہیں،(4) جمعہ اور عید کی نمازوں کے لیے جماعت کا ہونا شرط ہے، انفرادی طور پر جمعہ یا عید کی نماز ادا کرنا درست نہیں، جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے، لیکن جمعہ اور عید کی جماعت کے لیے کتنے افراد ضروری ہیں؟ اس میں فرق ہے، جمعہ کی نماز درست ہونے کے لیے امام کے علاوہ تین مردوں کا ہونا ضروری ہے اور عید کی نماز کے لیے امام کے علاوہ ایک مرد کا ہونا کافی ہے۔(5)

 اگر کسی ملک میں وائرس یا کسی وبائی مرض کی وجہ سے حکومت عید گاہ یا مسجد میں عید کی نماز پڑھنے سے منع کرے تو شہر، فنائے شہر یا بڑے گاؤں کے رہنے والے مسلمان کوشش کریں کہ وہ عید کی نماز عید گاہ میں یا مسجد میں پڑھیں، لیکن اگر کسی علاقے میں عید کی نماز عید گاہ یا مسجد میں پڑھنا ممکن نہ ہو تو کم از کم دو افراد گھر،گھر کی چھت، صحن یا بلڈنگ کی پارکنگ وغیرہ میں جمع ہو کر پڑھیں۔

عید کی نماز کا طریقہ :

عید کی نماز کے لیے اذان اور اقامت نہیں، جب نماز کھڑی کی جائے تو عید کی نماز چھ زائد تکبیرات کے ساتھ پڑھنے کی نیت کرے، اس کے بعد تکبیر کہہ کر ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لے اور ثناء پڑھے، اس کے بعد تین زائد تکبیریں کہے، دو تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دے اور تیسری تکبیر پر ہاتھ اٹھا کر ناف کے نیچے باندھ لے، اس کے بعد امام اونچی آواز میں قراءت کرے، قراءت مکمل ہونے کے بعد بقیہ رکعت (رکوع اور سجدہ وغیرہ) دیگر نمازوں کی طرح ادا کرے۔

پھر دوسری رکعت کے شروع میں امام اونچی آواز میں قراءت کرے، اس کے بعد تین زائد تکبیریں کہے، تینوں تکبیروں میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دے، پھر ہاتھ اٹھائے بغیر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور پھر دیگر نمازوں کی طرح دو سجدوں کے بعد التحیات، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے، پھرنماز مکمل کرنے کے بعدامام دو خطبے دے، دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھے۔ (6)

خطبے یاد نہ ہوں تو دیکھ کر پڑھ لیں، عید الفطر کے خطبے درج ذیل لنک پر ملاحظہ کیجیے:

عید الفطر کا خطبہ

اگر یہ خطبے پڑھنا بھی مشکل ہو تو دونوں خطبوں میں حمد و صلاۃ اور چند آیات پڑھ لینا بھی کافی ہوگا، نیز عیدین کے خطبوں کی ابتدا و انتہا اور درمیان میں تکبیرات پڑھنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

حوالہ جات:

(1)      بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  (3 / 84):

"ولأنها من شعائر الإسلام فلو كانت سنةً فربما اجتمع الناس على تركها فيفوت ما هو من شعائر الإسلام؛ فكانت واجبةً؛ صيانةً لما هو من شعائر الإسلام عن الفوت".

(2)      صحيح البخاري (2 / 22) ط: دار الشعب:

"عن أبي سعيد الخدري ، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى فأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف".

فتح الباري (2 / 450):

"واستدل به على استحباب الخروج إلى الصحراء لصلاة العيد وأن ذلك أفضل من صلاتها في المسجد؛ لمواظبة النبي صلى الله عليه و سلم على ذلك مع فضل مسجده".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 169):

"وفي الخلاصة والخانية: السنة أن يخرج الإمام إلى الجبانة، ويستخلف غيره ليصلي في المصر بالضعفاء بناء على أن صلاة العيدين في موضعين جائزة بالاتفاق، وإن لم يستخلف فله ذلك. اهـ. نوح".

الفتاوى الهندية - (1 / 150):

"الخروج إلى الجبانة في صلاة العيد سنة وإن كان يسعهم المسجد الجامع، على هذا عامة المشايخ وهو الصحيح، هكذا في المضمرات".

(3)      بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  (3 / 85):

"وأما شرائط وجوبها وجوازها فكل ما هو شرط وجوب الجمعة وجوازها فهو شرط وجوب صلاة العيدين وجوازها من الإمام والمصر والجماعة والوقت إلا الخطبة فإنها سنة بعد الصلاة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 166):

"(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها".

و في الرد: "(قوله: فإنها سنة بعدها) بيان للفرق وهو أنها فيها سنة لا شرط وأنها بعدها لا قبلها بخلاف الجمعة. قال في البحر: حتى لو لم يخطب أصلاً صحّ وأساء؛ لترك السنة، ولو قدمها على الصلاة صحت وأساء ولاتعاد الصلاة".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (3 / 89):

"وأما الخطبة فليست بشرط؛ لأنها تؤدى بعد الصلاة وشرط الشيء يكون سابقًا عليه أو مقارنًا له، والدليل على أنها تؤدى بعد الصلاة ما روي عن ابن عمر أنه قال: { صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وخلف أبي بكر وعمر رضي الله عنهما وكانوا يبدءون بالصلاة قبل الخطبة}، وكذا روي عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه قال: { صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وخلف أبي بكر وعمر وعثمان فبدءوا بالصلاة قبل الخطبة ولم يؤذنوا ولم يقيموا} ولأنها وجبت لتعليم ما يجب إقامته يوم العيد والوعظ والتكبير فكان التأخير أولى ليكون الامتثال أقرب إلى زمان التعليم".

(4)      النهر الفائق شرح كنز الدقائق  (1 / 373) ط: دار الكتب العلمية:

"وإذا لم يشترط السلطان أو نائبه فلا معنى لاشتراط الإذن العام، وكأنهم استغنوا بذكر السلطان عنه، على أنا قدمنا أن الإذن العام لم يذكر في الظاهر".

(5)      النهر الفائق شرح كنز الدقائق  (1 / 373) ط: دار الكتب العلمية:

"نعم بقي أن يقال: من شرائطها الجماعة التي هي جمع والواحد هنا مع الإمام جماعة، فكيف يصح أن يقال: إن شروطه الجمعة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 166):

"(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها".

و في الرد: "لكن اعترض ط ما ذكره المصنف بأن الجمعة من شرائطها الجماعة التي هي جمع والواحد هنا مع الإمام، كما في النهر".

الفقه على المذاهب الأربعة  (1 / 531):

"الحنفية قالوا: صلاة العيدين واجبة في الأصح على من تجب عليه الجمع بشرائطها سواء كانت شرائط وجوب أو شرائط صحة إلا أنه يستثنى من شرائط الصحة الخطبة فإنها تكون قبل الصلاة في الجمعة وبعدها في العيد ويستثنى أيضًا عدد الجماعة فإن الجماعة في صلاة العيد تتحقق بواحد مع إمام بخلاف الجمعة".

 (6)     الفتاوى الهندية (1 / 150):

"ويصلي الإمام ركعتين فيكبر تكبيرة الافتتاح ثم يستفتح ثم يكبر ثلاثًا ثم يقرأ جهرًا ثم يكبر تكبيرة الركوع فإذا قام إلى الثانية قرأ ثم كبر ثلاثًا وركع بالرابعة فتكون التكبيرات الزوائد ستًّا: ثلاثًا في الأولى وثلاثًا في الأخرى، وثلاث أصليات تكبيرة الافتتاح وتكبيرتان للركوع فيكبر في الركعتين تسع تكبيرات ويوالي بين القراءتين وهذه رواية ابن مسعود بها أخذ أصحابنا، كذا في محيط السرخسي.

ويرفع يديه في الزوائد ويسكت بين كل تكبيرتين مقدار ثلاث تسبيحات، كذا في التبيين. وبه أفتى مشايخنا، كذا في الغياثية. ويرسل اليدين بين التكبيرتين ولايضع، هكذا في الظهيرية.

ثم يخطب بعد الصلاة خطبتين، كذا في الجوهرة النيرة، ويجلس بينهما جلسة خفيفة، كذا في فتاوى قاضي خان، وإذا صعد المنبر لايجلس عندنا، كذا في العيني شرح الهداية، ويخطب في عيد الفطر بالتكبير والتسبيح والتهليل والتحميد والصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في التتارخانية".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202497

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے