بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

چھوٹے جانور میں دو آدمیوں کی رقم کا شامل ہونا


سوال

 زید بکر کو  20000  روپے بکرے   کی قربانی کے  لیے دیتا ہے اور  کہتا ہے کہ میری طرف سے قربانی کرکے خود بھی گوشت کھائے اور تقسیم بھی کرے ،اب بکر کو  20 ہزار میں بکرا نہیں ملتا تو وہ اپنی جیب سے تبرعا ًاس میں 5 ہزار روپے ملا کر  25 ہزار  کا   بکرا خرید کر قربانی زید کی طرف سے کر دیتا ہے ،کیا زید کی قربانی ہوگئی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر بکر ،زید کو اطلاع دیے بغیر اپنی جانب سے  اس قربانی کے جانور میں رقم  تبرع کے طور پر شامل کردیتا ہے،یا زید کی جانب سے دی گئی رقم سے زائد رقم بکر، زید کو اطلاع دے کر زید کی جانب سے  شامل کرتا ہے تو  کل رقم زید کی جانب سے شمار ہوگی، اور بکر کا زید کی جانب سے اس صورت میں چھوٹا جانور قربان کرنا درست ہوگا اور زید کی قربانی ادا ہوجائے گی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 70):

"وأما قدره فلايجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمةً سمينةً تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد، وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200304

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں