بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

چھوٹے برتن میں وضو کرنا


سوال

چھوٹے برتن میں ہاتھ ڈال کر وضو کرنا کیسا ہے؟

جواب

چھوٹے   برتن سے وضو کرنا جائز ہے،   البتہ اس صورت  میں  برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اس برتن سے پانی  ہاتھوں پہ گرا کر  ہاتھوں کو دھو لینا چاہیے،  اور  اگر ہاتھوں پر ناپاکی لگے ہونے کا یقین ہو تو برتن میں ہاتھ ڈالنے سے  پہلے ہاتھوں کا پاک کرنا ضروری ہے، ورنہ  ناپاک ہاتھ برتن میں ڈالنے سے برتن میں موجود  تمام پانی ناپاک ہوجائے گا۔ ہاتھوں کے پاک کرنے کے بعد اس چھوٹے برتن میں ہاتھ ڈال کر وضو کیا جاسکتا ہے۔  البتہ  اگر اس برتن کو جھکا کر یا اس سے تھوڑا تھوڑا پانی گرا کر اس طور پر وضو کیا  جاسکتا ہو کہ ہاتھ اندر نہ ڈالنے پڑیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

محیط برہانی میں ہے:

قال محمد رحمه الله في «الأصل» : الوضوء أن يبدأ فيغسل يديه ثلاثا ولم يذكر كيفيته، وحكي عن الفقيه أي جعفر الهندواني رحمه الله: أنه ينظر إلى الإناء إن كان الإناء صغيرا يمكنه رفعه لا يدخل يده فيه، بل يرفعه بشماله ويصبه على كفه اليمنى ويغسلها ثلاثا، وإن كان الإناء كبيرا لا يمكن رفعه كالحب وشبهه، وكان معه كوز صغير يرفع الماء بالكوز، ولا يدخل يده فيه ثم يغسل يديه بالكوز على نحو ما بينا.

وإن لم يكن معه كوز صغير أدخل أصابع يده اليسرى مضمومة في الإناء، ولا يدخل الكف ويرفع الماء من الحب ويصب على يده اليمنى ويدلك الأصابع بعضها ببعض، فيفعل كذلك ثلاثا ثم يدخل يده اليمنى بالغا ما بلغ في الإناء، وقوله عليه السلام: «‌لا ‌يغمسن في الإناء» محمول على ما إذا كانت الآنية صغيرة أو كانت كبيرة، ولكن معه آنية صغيرة.

وأما إذا كان الإناء كبيرا وليس معه آنية صغيرة، فالنهي محمول على الإدخال على سبيل المبالغة.

(«المحيط البرهاني في الفقه النعماني» (1/ 41)، ‌‌الفصل الأول في الوضوء، ‌‌كتاب الطهارات، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200768

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں