بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1442ھ- 29 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ما حکم أکل السمك الصغار؟


سوال

ما حکم أکل السمك الصغار؟

جواب

أما السمك الكبير فقد اتضح حلّ أكلها بعد تنقية ما بداخلها من النجاسات لا قبله، وذلك واجب، وأما السمك الصغير، فيحلّ أكلها بدون تنقية داخلها عند الأئمة الثلاثة، واختلف فيه الإمام الشافعي، ولكن اتفقت كلمة الجميع باستحسان أكل السمك الصغير أيضًا بعد التنقية، ونصوص کتب الفقه والفتاوی كما يلي:

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (6 / 309):

"وفي السمك الصغار التي تقلى من غير أن يشق جوفه، فقال أصحابه: لايحل أكله؛ لأنّ رجيعه نجس، و عند سائر الأئمة يحل ا هـ".

إعلاء السنن:

"قال الموفق في المغني: ویباح أکل الجراد بما فیه، وکذا السمك یجوز أن یقلی من غیر أن یشق بطنه، وقال أصحاب الشافعي في السمك: لایجوز؛ لأنّ رجیعه نجس، ولنا عموم النص في إباحته و ما ذکروه غیر مسلم، قلت: وفي رد المحتار عن معراج الدرایة في السمك الصغار التي تقلی من غیر أن یشق جوفه فقال أصحابه -أي أصحاب الشافعي- لایحل أکله؛ لأنّ رجیعه نجس، وعند سائر الأئمة یحلّ". (إعلاء السنن، کتاب الذبائح، باب حلّ الجراد، دارالکتب العلمیة بیروت ۱۷/ ۲۱۱-۲۱۲)

في إمدادالفتاوی:

خشک مچھلی کھانا:

"سوال (۲۳۹۱) : قدیم ۴/ ۱۰۴- جو مچھلی آلائش بغیر دور  کیے ہوئے اس کے معدہ سمیت خشک کرلی جاتی ہے، ا س کا کھانا درست ہے یا نہیں ؟

الجواب: اس کو شگاف دے کر دھو کر پاک کرکے کھانا درست ہے۔ فقط۸؍ محرم ۱۳۲۶؁ ھ (تتمہ اولیٰ ص ۱۴۰)"۔

في إمداد الأحکام:

"مچھلی کی آلائش صاف کیے بغیر پکانے کا حکم

سوال:۔ مچھلی میں کیا چیزیں حرام ہیں بعض مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ پتا حرام ہے، لہٰذا جو مچھلی بہت چھوٹی ہے ، پتے  کی تمیز کرنا ممکن نہیں ہے، اس کا کھانا کیا مکروہِ تحریمی ہے؟  جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب: قال في رد المحتار: و في سمك الصغار الّتي تقلی من غیر أن یشقّ جوفه فقال أصحابه (أي أصحاب الشافعي) لایحلّ أکله؛ لأنّ رجیعه نجسٌ وعند سائر الأئمة یحلّ". (ج؍۵،ص؍۳۰۱)عبارت بالا سے معلوم ہوا کہ چھوٹی مچھلی کو اگر بدون آلائش صاف کیے ہوئے بھی پکالیا جائے تو آئمہ ثلاثہ کے نزدیک جائز ہے اور امام شافعی ؒ کے نزدیک آلائش صاف کرنے کے بعد جائز ہے اور صغار کی قید سے مفہوم ہوتا ہے کہ بڑی مچھلی کی آلائش صاف کرنا سب کے نزدیک واجب ہے۔ بدون صاف کیے کھانا جائز نہ ہوگا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چھوٹی مچھلی کو بدون پیٹ صاف کیے ہمارے نزدیک کھانا جائز ہے۔ واللہ اعلم"۔(4/309)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں