بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

چھوٹی بچی کو ملازمہ رکھنے کا حکم


سوال

کیا چھوٹی بچی کو گھر میں ملازمہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب

شرعاً بچوں کے اخراجات اور ضروریات کو پورا رکرناوالد/سرپرست کی ذمہ داری ہے،اگر والد کفالت پر قادر نہ ہو،اور نہ کوئی سرپرست ہو تو حکومتِ  وقت کی ذمہ داری ہےکہ ایسے بچوں کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرکے ان کی ضروریات کی کفالت کرے، کیوں کہ آئندہ بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لیےان کی  اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا  ضروری ہے،اور  ملازمت  یا نوکری وغیرہ تعلیم وتربیت کی راہ  میں رکاوٹ ہیں،لیکن اگر بوجہ ضرورت مثلاً :کفالت کا انتظام نہ ہوسکنے یابچہ کی طبیعت پڑھائی کی طرف مائل نہ ہونے کی صورت میں  بچےکو  ہنر سکھانے یا کسی کام کاج وغیرہ کی لیے رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ اس کی کچھ حدود و شرائط ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

1:بچے کو مزدوری پر لگانے کے لیے اس کے ولی یا سرپرست کی اجازت ضروری ہے۔

2:بچہ کی عمر اور جسمانی صحت اس کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو،بچہ کی برداشت اور استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔

3:    بچے کو جس کام کاج پر لگایا جارہا ہے وہ اس کی ذہنی ، اخلاقی اور جسمانی نشو ونما کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔

4::بچوں کو ان  کےمناسب  اور  ان کے لیے موزوں کاموں پر اور بچیوں کو اُن کی صنف اور   صلاحیت کے مطابق  کاموں پر لگایاجائے۔

5:جس جگہ بچہ/ بچی کام کر رہے ہوں وہاں ان کی جان اور عزت کی حفاظت یقینی ہو۔

6:معروف اجرت طے کر کے بروقت ادا کی جائے۔

7:بچوں کو  مارا پیٹا نہ جائے اور نہ کوئی سزا دی جائے ،اور نہ سزا کے طور پر اُن کی اجرت روکی جائے۔

8:  بچہ مزدوری کرکے جو کمائے گا وہ اسی کی ذات پر خرچ کیا جائے گا، اس کی ضروریات پر خرچ کرنے کے بعد جو آمدنی بچ جائے وہ بچے کے والد/سرپرست  یا اس  شخص کے پاس بطورِ امانت محفوظ رکھی جائے گی جس کی پرورش میں وہ بچہ ہے۔

لہٰذا ایسے نابالغ جو عاقل ہوں اور پڑھائی وغیرہ میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں انہیں ولی کی اجازت کے ساتھ مزدوری کا موقع دینا شرعاً جائز ہے، لیکن اگر بچہ عاقل نہیں یا وہ پڑھائی میں دلچسپی رکھتا ہے اور ولی کے پاس اسے پڑھانے کی طاقت و استطاعت ہے تو ایسے بچے کو مزدوری پر نہیں لگانا چاہیے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي قال: حدثنا وهب بن سعيد بن عطية السلمي قال: حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أعطوا ‌الأجير ‌أجره، ‌قبل ‌أن ‌يجف ‌عرقه."

(كتاب الإجارة،باب اجر الأجير،ج:2 ،ص: 817، ط:دار إحياء الكتب)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"وكذلك الإجارة من الأب والوصي والقاضي وأمينه نافذة لوجود الإنابة من الشرع، فللأب أن يؤاجر ابنه الصغير في عمل من الأعمال؛ لأن ولايته على الصغير كولايته على نفسه؛ لأن شفقته عليه كشفقته على نفسه، وله أن يؤاجر نفسه."

(کتاب الإجارۃ ،ج:4، ص: 177،ط: دار الكتب العلمیة)

وفیہ ایضاً : 

"وأما البلوغ ‌فليس ‌من ‌شرائط ‌الانعقاد ‌ولا ‌من ‌شرائط ‌النفاذ عندنا، حتى إن الصبي العاقل لو أجر ماله أو نفسه فإن كان مأذونا ينفذ وإن كان محجورا يقف على إجازة الولي عندنا خلافا للشافعي وهي من مسائل المأذون."

( کتاب الإجارۃ، ج:4، ص:176، ط: دار الکتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و أما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل ، أو خدمة کذا في الخلاصة."

(کتاب الطلاق، الباب السابع، الفصل الرابع، ج:1، ص:562، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً: 

"ثم في الذكور إذا سلمهم في عمل فاكتسبوا أموالا فالأب يأخذ كسبهم وينفق عليهم، وما فضل من نفقتهم يحفظ ذلك عليهم إلى وقت بلوغهم كسائر أملاكهم، فإن كان الأب مبذرا مسرفا لا يؤمن على ذلك فالقاضي يخرج ذلك من يده ويجعله في يد أمين ويحفظ لهم، فإذا بلغوا أسلم إليهم كذا في المحيط."

(کتاب الطلاق، الباب السابع، الفصل الرابع، ج:۱، ص:562، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً :

"وقال الإمام الحلواني: إذا كان الابن من أبناء الكرام، ولا يستأجره الناس فهو عاجز، وكذا طلبة العلم إذا كانوا عاجزين عن الكسب لا يهتدون إليه لا تسقط نفقتهم عن آبائهم إذا كانوا مشتغلين بالعلوم الشرعية لا بالخلافيات الركيكة وهذيان الفلاسفة، ولهم رشد، وإلا لا تجب كذا في الوجيز للكردري ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ‌ما ‌لم ‌يتزوجن ‌إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة."

(کتاب الطلاق، الباب السابع، الفصل الرابع، ج:1، ص:562، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره.وحاصله أن مصرفه العاجزون الفقراء".

(کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج:2، ص:338، ط: سعید)

وفیہ ایضاً :

"قال الخير الرملي: لو استغنت الأنثى بنحو خياطة وغزل يجب أن تكون نفقتها في كسبها كما هو ظاهر، ولا نقول تجب على الأب مع ذلك، إلا إذا كان لا يكفيها فتجب على الأب كفايتها بدفع القدر المعجوز عنه، ولم أره لأصحابنا. ولا ينافيه قولهم بخلاف الأنثى؛ لأن الممنوع إيجارها، ولا يلزم منه عدم إلزامها بحرفة تعلمها. اهـ أي الممنوع إيجارها للخدمة ونحوها مما فيه تسليمها للمستأجر بدليل قولهم؛ لأن المستأجر يخلو بها وذا لا يجوز في الشرع، وعليه فله دفعها لامرأة تعلمها حرفة كتطريز وخياطة مثلا".

( کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:612، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً :

"(قوله: وإذا بلغ الذكور حد الكسب) أي قبل بلوغهم مبلغ الرجال إذ ليس له إجبارهم عليه بعده. (قوله: بخلاف الإناث) فليس له أن يؤجرهن في عمل، أو خدمة تتارخانية لأن المستأجر يخلو بها وذلك سيئ في الشرع ذخيرة، ومفاده أنه يدفعها إلى امرأة تعلمها حرفة كتطريز وخياطة إذ لا محذور فيه، وسيأتي تمامه في النفقات. (قوله: ولو الأب مبذرا) أي يخشى منه إتلاف كسب الابن. (قوله: كما في سائر الأملاك) أي أملاك الصبيان تتارخانية: أي فإن القاضي ينصب لهم وصيا يحفظ لهم ما لهم إذا كان الأب مبذرا".

( کتاب الطلاق، باب النفقة ،ج:3، ص:569، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502101528

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں