بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

چھوٹے بچوں سے مدرسے کا چندہ کرانا/ دیواروں پر اشتہارات لگانا


سوال

(1)  ہمارے علاقوں میں آج کل یہ سلسلہ بہت زیادہ چل پڑا ہے کہ بعض مدارس والے چندہ کے لیے مختلف جگہوں میں چھوٹے چھوٹے بے ریش  بچوں کو چندے کے لیے بھیجتے ہیں اور پھر یہ بچے دو دو تین تین کی جوڑیاں بنا کر مختلف مساجد میں جاتے ہیں اور نماز کے بعد کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایک دو آیات  یا حدیث پڑھتے ہیں اور پھر عوام کو ترغیب دیتے ہیں کہ ہم فلاں  علاقے سے چندے کی غرض سے آئے ہیں آپ ہمارے ساتھ تعاون  کریں،  تو کیا اس طرح بچوں سے مدرسے کا چندہ کرانا درست ہے؟

(2)  عموماً مدارس کے داخلوں  اور جلسوں کے اعلان کے اشتہارات مختلف جگہوں پر اور دیواروں پر لگا ئے جاتے ہیں جب کہ دیوار کے اصل مالک سے اجازت نہیں لی جاتی بلکہ بہت سی جگہوں پر صاف لکھا ہوتا ہے کہ یہاں  اشتہار لگانا منع ہے مگر اس کے باوجود بھی لگا دیے جاتے  ہیں۔  نیز  کچھ اشتہارات  پر اللہ تعالی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یا قرآنی آیات یا حدیث لکھی ہوتی ہے جبکہ یہی اشتہار ات پھر زمین یا ندی  وغیرہ میں گر جاتے ہیں،  تو کیا کسی دوسرے کی دیوار پر اشتہار ات لگانا درست ہے؟

جواب

(1) اگر چندہ کرنے والے  بے ريش بچے غير عاقل نابالغ ہوں تو ان سے چندہ کرانا جائز نہیں ہے اور اگر بالغ ہوں یا نابالغ ہوں لیکن  عاقل ہوں اور امانت دار  ہوں اور  مدرسے کے مہتمم کو ان  پر اعتماد ہو  تو   ایسے بچوں سے  مدرسے کا  چندہ کرانا جائز  ہے  بشرطیکہ بچوں کو اس پر مجبور نہ کیا جائے اور ان کی تعلیم میں بھی حرج نہ  ہو اور بے ریش ہونے کی وجہ سے کسی فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی نہ ہو ۔ 

(2)واضح رہے کہ فقہاء کرام نے  دیواروں پر بلاضرورت قرآنی آیات لکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے، اس لیے کہ ان کے گرنے کا خطرہ رہتا ہے جس سے قرآنی آیات  کی بے ادبی ہوگی، لہذا ایسے اشتہارات جن پر قرآنی آیات و احادیث مبارکہ درج ہوں   دیواروں پر لگانا مکروہ ہے کیونکہ مشاہدہ ہے کہ  دیواروں سے اکھڑجانے کے بعد ان کی حفاظت اور بے ادبی سے بچانے کا باقاعدہ کوئی انتظام نہیں کیا جاتا، یہ حکم ان دیواروں کا ہے جن پر اشتہارات لگانے کی اجازت ہو اور وہ دیواریں جو کسی کی ذاتی ملکیت ہوں یا مسجد کی دیوار ہو تو ان  پر اشتہارات لگانا جائز نہیں  ہے۔ 

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"وأما الذي يرجع إلى الوكيل فهو أن يكون عاقلا، فلا تصح وكالة المجنون، والصبي الذي لا يعقل، لما قلنا.وأما البلوغ، والحرية، فليسا بشرط لصحة الوكالة، فتصح وكالة الصبي العاقل، والعبد، مأذونين كانا أو محجورين وهذا عند أصحابنا.وقال الشافعي - رحمه الله - وكالة الصبي غير صحيحة؛ لأنه غير مكلف، ولا تصح وكالة المجنون."

(ولنا) ما روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «لما خطب أم سلمة قالت: إن أوليائي غيب يا رسول الله فقال: - صلى الله عليه وسلم - ليس فيهم من يكرهني ثم قال لعمرو ابن أم سلمة: قم فزوج أمك مني فزوجها من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وكان صبيا» والاعتبار بالمجنون غير سديد؛ لأن العقل شرط أهلية التصرفات الشرعية، وقد انعدم هناك ووجد هنا؛ فتصح وكالته كالبالغ إلا أن حقوق العقد من البيع ونحوه، ترجع إلى الوكيل إذا كان بالغا، وإذا كان صبيا ترجع إلى الموكل، لما نذكر في موضعه إن شاء الله تعالى."

( کتاب الوکالة،فصل في شرائط الوكالة،6/20،ط:دارالکتب العلمیة)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن أم سليم أنها قالت يا رسول الله ‌أنس ‌خادمك ادع الله له. قال: اللهم أكثر ماله وولده، وبارك له فيما أعطيته \". قال أنس: فوالله إن مالي لكثير وإن ولدي وولد ولدي ليتعادون على نحو المائة اليوم‘‘   متفق عليه."

"وقال صاحب المشكاة في أسماء رجاله: أنس بن مالك بن النضر الخزرجي كنيته أبو حمزة، قدم النبي - صلى الله عليه وسلم - المدينة، وهو ابن عشر سنين، وانتقل إلى البصرة في خلافة عمر ليفقه الناس، وهو آخر من مات بالبصرة من الصحابة سنة إحدى وتسعين، وله من العمر مائة وثلاث سنين، وقيل تسع وتسعون سنة."

  (كتاب المناقب والفضائل، باب جامع المناقب،9/4002، ط: دارالفكر بيروت) 

البحرالرائق میں ہے:

"وفي النهاية وليس بمستحسن كتابة القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن ‌توطأ."

(کتاب الصلوٰۃ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيھا،2/40،ط:دارالکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله : ولا ينبغي الكتابة على ‌جدرانه) أي خوفا من أن تسقط وتوطأ بحر عن النهاية  ."

(كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة و مايكره فيها،ج: 1،ص: 663، ط: سعيد)

شرح المجلۃ لرستم باز میں ہے:

"لایجو ز لا حد ان یتصرف فی ملک الغیر بلا اذنہ."

(المقالة الثانیة فی بیان القواعد الکلیة،المادہ 96،ج1،ص51،ط:رشیدیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144304100478

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں